جوبائیڈن کا بطور امریکی صدر انتخاب کیا

امریکی مسلمانوں کی اکثریت نے جوبائیڈن کا بطور امریکی صدر انتخاب کیا
69 فیصد مسلم ووٹروں نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جب کہ صرف 17 فیصد مسلمانوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی۔ ایگزیٹ پول سروے

واشنگٹن (05 نومبر2020ء) امریکی صدارتی انتخابات برائے 2020 کے لیے منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اب تک 44 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور مزید 6 ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں جن پر ناصرف امریکی عوام بلکہ پوری دنیا کی نظریں لگی ہیں . ان میں ریاست پنلسوینیا ‘ ایریزونا‘جارجیا‘شمالی کیرولائنا‘نیواڈا اور الاسکا شامل ہیںیہ 6 ریاستیں موجودہ صورتحال میں انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہیں نیواڈا میں دونوں امیدواروں کے پاس 49/49فیصد ووٹ ہیںاسی طرح باقی پانچ ریاستوں میں بھی مقابلہ انتہائی قریب ہے اور چند ووٹ بھی پورے انتخابات کا رخ بدل کر رکھ سکتے ہیں اگرچہ دونوں جماعتیں ان ریاستوں میں اپنی اپنی جیت کا اعلان چکی ہیں مگر ابھی تک ان ریاستوں میں گنتی پوری نہیں ہوئی ان میں سب سے اہم ریاست پنسلوینیا ہے جس کے20الیکٹرول ووٹ ہیں موجودہ صورتحال میں صرف3الیکٹرول ووٹوں کی حامل الاسکا بھی کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔
اگر بات کی جائے امریکا میں مقیم اقلیتوں کی تو امریکا میں 69 فیصد مسلمانوں نے جوبائیڈن کو ووٹ دیا۔امریکا میں مسلم سول لبرٹیز اور وکالت تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریبا 69 فیصد مسلم ووٹروں نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔جب کہ صرف 17 فیصد مسلمانوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی۔ملک میں سب سے بڑی امریکن اسلامک ریلیشن نے منگل کے روز صدارتی اتنخابات کے ایگزیٹ پول جاری کیے جس میں بتایا کہ مسلمانوں نے کس کے حق میں ووٹ دیا۔رجسٹرڈ مسلم ووٹوں کے حوالے سے زبردست ٹرن آؤٹ رہا،84 فیصد مسلمانوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا۔سی آئی اے آر کا کہنا ہے کہ اس بار ایک ملین امریکی مسلمانوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.