زیتون کے تیل کے چند دنگ کر ڈالنے والے فوائد

اللہ سُبحانہ و تعالی کا فرمان مُبارک ہے۔
شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ مُبارک درخت جو کہ نہ مشرقی جانب میں ہو۔، نہ مغربی جانب میں (بلکہ وسط میں نمایاں رہتا ہے۔)اُس کے تیل کو خواہ آگ چھوئے بھی نہیں وہ تیل اپنے آپ میں خود ہی چمکتا ہے۔ (سُورت النُور (24)/آیت35) اور اِرشاد فرمایا ہے۔ وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاء تَنبُتُ بِالدهْنِ وَصِبْغٍ للآكِلِينَ اور (وہ زیتون کا)درخت جو۔ سیناء کے پہاڑ سے ملنے والا تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن لیے ہوئے نکلتا ہے۔ (سُورت المؤمنون(23)/آیت 20) جس چیز کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے با برکت ہونے کی خبر دی ہو۔ اور اس کے ایسے مذکورہ بالا اوصاف بیان فرمائے ہوں۔ اُس چیز کے فوائد میں کسی قِسم کا شک نہیں رہ جاتا۔

عادل سہیل ظفر کی تحریر کے کرتے ہیں۔
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حِکمت ہے کہ وہ اُسی وقت اِنسان کو کسی چیز کا عِلم دیتا ہے جب اُس عِلم کا اِنسان کو ملنا مُناسب ہو اور جب مُناسب ہوتا ہے اُسی وقت ہی اِنسان کو دیے ہوئے عِلم میں اضافہ دیتا ہے۔ زیتون اور زیتون کے تیل کے بارے میں اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی یہ سُنّت جاری ہے کہ انسان کو وقتاً فوقتاً اُس کے فوائد اور اس میں اللہ کی طرف سے دی گئی برکت کے بارے میں عِلم ملتا رہتا ہے۔

، جو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے
اِن مذکورہ بالا فرامین مُبارکہ کی اور اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان مُبارک کی حقانیت کی دِلیل بنتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کا اِنکار کرنے والوں کے خلاف حُجت بنتا ہے، اللہ ہم سب کو اور ہر کلمہ گو کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔زیتون کا تیل بلا مبالغہ دیگر تمام تیلوں سے افضل ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُس پودے کو ہی با برکت قرار دیا ہے جِس کے پھل سے یہ تیل نکالا جاتا ہے۔

، ہم مُسلمان تو اس پر اِیمان رکھتے ہیں، جس کے لیے ہمیں کسی قِسم کے دیگر علوم کی گواہیاں درکار نہیں۔ لیکن چونکہ ہماری صفوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں دِین کے مُعاملات بھی مادی معیار پر پرکھ کر ہی سمجھ میں آتے ہیں اور وہ مادی علوم کی روشنی میں ہی اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کو مانتے یا رد کرتے ہیں اور دونوں ہی صورتوں میں اپنی آخرت کا نقصان کرتے ہیں۔

کیونکہ اگر وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی کسی بات کو
کسی مادی عِلم، کسی مادی معیار کی کسوٹی پر پر کھنے کے بعد مانیں اور مادی فوائد حاصل کرنے کے لیے اُس پر عمل کریں تو اُن کے ماننے اور اُن کے عمل کرنے میں اُن کے لیے آخرت میں کوئی خیر نہیں کیونکہ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى یقیناً عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

، اور ہر اِنسان کے وہی(نتیجہ) ہے جِس کے لیے اُس نے نیت کی (صحیح البخاری / پہلی حدیث) اور اگر وہ لوگ کسی بات کو اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ثابت ہونے کی صورت میں نہ مانیں تو اُن کی آخرت کی تباہی میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ میں اِس مضمون میں زیتون کے تیل میں بارے جدید علوم کی تحقیقات میں مُیسر کچھ معلومات ایسے کسی بیمار دِل والے کے لیے نہیں پیش کر رہا جو اللہ اور اس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کو مادی کسوٹیوں پر پرکھتا ہو، اور نہ ہی یہ معلومات اِس لیے پیش کر رہا ہوں کہ پڑھنے والوں میں سے میرے مُسلمان بھائی یا بہن اِن معلومات کی بنا پر زیتون کا تیل اِستعمال کریں۔

بلکہ یہ معلومات
اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا دو فرامین اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان کی حقانیت کی گواہی کے طور پر پیش کر رہا ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اِیمان والوں کے اِیمان میں اضافے کا سبب بنائے، اور بیمار دِلوں اور ذہنوں کی شفاء کا سبب بنائے۔ خصوصی گزارش اِن معلومات کو پڑھنے کے بعد جو مسلمان بھائی یا بہن اِن معلومات میں مذکور کسی فائدے کو حاصل کرنے کے لیے زیتون کا تیل استعمال کرے تو نیت کی درستگی کے ساتھ اِستعمال کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے با برکت قرار دیا ہے، اِس کی ذاتی صِفت کچھ نہیں اور اللہ سے دُعاء کرے کہ اللہ تعالیٰ اِس تیل کو اُس کے لیے بھی با برکت کرے اور اُس کا مطلوب مہیا فرما دے۔

عقیدے کی صفائی، درستگی اور مضبوطی کے لیے کچھ باتیں عرض کرنے کے بعد اب میں آتا ہوں زیتون کے تیل کے بارے میں ملنے والی معلومات کی طرف۔ دور حاضر کےمحققین(Researchers)یہ جان کر حیران رہ گئے کہ بحیرہ روم میں پائے جانے والے یونانی جزیروں میں سے ایک جزیرے کریٹ(Crete) کے رہنے والے پوری دُنیا میں سب سے کم دِل کے امراض اور سرطان (کینسر)کا شِکار ہوتے ہیں۔ اِس حیرت انگیز انکشاف کے بعد اُن محققین نے

تحقیق کا دائرہ کار وسیع کیا
۔تو انہیں مزید حیرت کا شِکار ہونا پڑا۔، جب اُنہیں یہ پتہ چلا کہ پُوری دُنیا میں اِس جزیرے کے باسی اپنے کھانے پینے میں سب سے۔ زیادہ زیتون کا تیل استعمال کرتے ہیں۔ اُن لوگوں کے جسموں میں روزانہ داخل ہونے۔والے حرارے (Calories) میں سے 33 فیصدحرارے زیتون کے تیل۔ کے ذریعے مہیا ہوتے ہیں۔ڈاکٹر ولیم کاسٹیلی ( William )جو کہ Heart Study کے ڈائریکٹر رہے ہیں،۔ کا کہنا ہے کہ “باوجود اِس کے کہ بحیرہ روم کے درمیانی علاقے میں رہنے والے لوگ بَھیڑوں،۔ گھی، بالائی اور پنیر وغیرہ میں پائی جانے والی کافی ناقص اور نقصان دہ قسم کی چکنائیاں ( Fats) بھی کھاتے ہیں، لیکن چونکہ وہ لوگ اپنے کھانے زیتون کے تیل میں تیار کرتے ہیں۔ اِسی لیے اُن لوگوں کے ہاں دِل کی شریانوں کے امراض بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔
” یہ بھی کہا کہ “ہمیں اِس بات کا پوری طرح سے پتہ چل گیا ہے کہ بحیرہ روم کے درمیانی علاقے میں رہنے والے لوگوں کی خوراک میں زیتون کے تیل کا اِستعمال ہی اُن لوگوں میں دِل اور شریانوں کی بیماریوں سے بچے رہنے کا سبب ہے ۔ کھانے پکانے اور کھانے کی چیزوں کو

تیار۔ کرنےکا سب سے بہترین طریقہ زیتون کے۔

تیل تیار کرنا ۔
نیویارک یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹرایوسان کی طرف سے جاما۔ (ش۔ کیا گیا۔کہ “نئی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زیتون کے تیل کا دِل کی شریانوں کے امراض پر گہرے مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گو کہ ہماری اِن تحقیقات کا ھدف خون میں پائے جانے والی چکنائیاں تھیں۔، لیکن اُن کے بارے میں تحقیق کے دوران عِلمی مطالعہ و مشاہدہ کے ذریعے۔ یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی کہ زیتون کاتیل شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی بہت سے مثبت نتائج مہیا کرتا ہے۔سابقہ تحقیقات کے نتائج میں یہ تھا کہ زیتون کا تیل کولسٹرول پر کوئی اثر نہیں کرتا۔ نہ اُس میں اضافے کا سبب ہوتا ہے اور نہ کمی کا ۔

زیتون کے تیل کے دیگر فوائدزیتون کے تیل کے بہت سے فوائد ہیں
، جس کا اِقرار قدیم زمانوں سے آج تک کیا جاتا ہے۔، میں اُن میں سے کچھ عام اور أہم فوائد کا ذِکر کرتا ہوں:۔زیتون کا تیل نرم کرنے والا لیکن معدے اور انتڑیوں پر ہلکا رہنے والا ہے۔، جِس کے نتیجے میں قبض کشا ہوتا ہے۔ اور معدے اور نظام انہضام اور فضلہ جات کے خروج کے نظام کو فعال اوررواں رکھنے کا سبب ہوتا ہے۔ زیتون کا تیل معدے اور اس سے نیچے کی انتڑیوں کے زخموں اور سرطان سے بچائے رکھنے کا سبب ہوتا ہے۔

اور اگر یہ تکلیفیں واقع ہو چکی ہوں تو اُن سے نجات دینے کا سبب ہوتا ہے۔زیتون کا تیل پٹھوں اور اعصاب کی تقویت اور نرمی کا سبب بھی ہوتا ہے زیتون کا تیل وٹامن اے (Vitamin A)، وٹامن ای (Vitamin E)، بہت سے معدنیات(Minerals) اور اینٹی اوکسیڈینٹس(Antioxidants) کا بہترین متوازن مجموعہ ہے، لہٰذا بڑھاپے کی راہ میں روکاٹ کا سبب ہے، اور بڑھاپے کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی کمزوریوں اور بیماریوں کو دیر تک دُور رکھنے کا سبب ہوتا ہے

تیل جلد کی اوپر والی سطح۔ اور نیچے والے سطح میں سےہلکی سوزش اور جلن وغیرہ کو دور کرتاہے۔، جلد کے لیےمدافعتی غِلاف کا کام کرتا ہے،۔ یعنی جلد کے لیے اینٹی بیکٹریل(Antibacterial) ۔اور پروٹیکٹیو لیر (Protective layer)کا کام کرتا ہے۔ اسی لیے اکثر اِسے پھٹی ہوئی۔ جلد، یا جلدی بیماری اکزیما(Eczema) ۔وغیرہ کے علاج کے طور پر بھی استعمال کروا جاتا ہے۔ہم اِن سب باتوں پر اور اِس جیسی دیگر تحقیقات پر تو یقیناً یقین۔ کر لیں گے اور فوراً ہی کر لیں گے۔، لیکن اگر ایسی ہی کچھ معلومات ہمیں حدیث شریف میں میسر ہو جائیں۔ تو ہم ناک بھوں چڑھاتے ہوئے دائیں بائیں دیکھنے لگتے ہیں۔

اللہ پاک اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سمجھتے۔
اور مانتے ہوئے ہمیں کافی خشکی ہونےلگتی ہے۔۔ کہ وہ باتیں ہمارے کانوں سے آگے نہیں ہو پاتیں۔ بہرحال، اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ اِن ساری معلومات کے بعد میں آپ صاحبان کو اپنے۔ رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث شریف سُناتا ہوں،۔ جِس کا ذِکر میں نے آغاز میں کیا۔، لیکن قصداً اُسے بیان نہیں کیا بلکہ اُس کی طرف فقط اِشارہ کُناں رہا ہوں۔۔ یہ ساری ہی مذکورہ بالا “جدید تحقیقات” اِس ایک حدیث مُبارکہ میں مُقید ملتے ہیں،۔ لیکن برُا ہو ہماری عقلوں کا کہ ہمیں سُنّت مُبارکہ پر عمل گوارا نہیں۔

پس اللہ ہی جانے کہ سُنّت شریفہ کے کتنے فائدوں اور کتنی برکتوں سے۔ ہم نے خود ہی اپنی بدعقلی اور گمراہ سوچوں کی بنا پ اپنے آپ کومحروم کر رکھا ہے۔، والا حول و لا قوۃ الا باللہ، و اللہ المستعان۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد گرامی ہے۔ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ (زیتون کا ) ۔تیل کھاؤ اور اُس سے مالش کرو، کیونکہ بے شک وہ برکت والے درخت میں سے ہے۔ (سُنن الترمذی /حدیث1969/کتاب الاطعمہ/باب43)۔ دُوسری روایت میں ہے کہ اِئْتَدِمُوا بِالزَّيْتِ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ (زیتون کے تیل )کو سالن بناؤ اوراس تیل سے مالش کرو۔، کیونکہ بے شک وہ برکت والے درخت میں سے ہے۔ (سُنن ابن ماجہ/ کتاب الاطعمہ/باب34، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے دونوں روایات کو صحیح قرار دیا)۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.