ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی محبت رسول ﷺ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب حضو ر پاک ﷺ کے عقد میں آئیں جو کہ عاشق رسول حضرت صدیق اکبر کی بیٹی تھی ۔ حضور پاک ﷺ کی محبت میں ہر وقت مگن تھیں اور رات کو اٹھ کر اکثر اوقات حضور پاکﷺ کو دیکھتیں تھیں ایک بار جب حضور پاک ﷺ کو موجود نہ پایا تو اندھیرے میں ڈھونڈنا شرو ع کر دیا اور اندھیرے میں ڈھونڈ تے ڈھونڈتے حضور پاکﷺ کے پاؤں کو ہاتھ مس کر گیا پھر جا کر دل کو سکون ہوا۔

ایک روز جب بستر میں حضور پاک ﷺ کو نہ پایا تو بہت پریشانی ہوئی آپ کو ڈھونڈ نے لگیں آخر حضو ر پاک ﷺ کو جنت البقیع میں دعا کرتے ہوئے پایا تب جا کر دل کو سکون ہوا۔ اکثر اوقات جب حضور پاک ﷺ ان کی گو میں سر مبارک رکھ کر لیٹ جاتے تھے آپ حضور پاک ﷺ کی زلفوں میں مانگ نکالتی تھیں اور زلفوں کو رخ انور کے ساتھ اس طرح کردیتی تھی کہ زلفیں اور زیادہ خوبصورت ہو جاتی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کےمجھ پر انعامات میں سے ایک یہ بھی ہے

کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال میرے گھر میں اس حالت میں ہوا کہ اگر آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے تھے ۔ علاوہ ازیں آپ کے وصال سے پہلے اللہ نے میرے اور آپ ﷺ کے لعاب دہن کو ملادیا۔ ہوایوں کہ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اوران کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اللہ ﷺ کو ٹیک دیئے ہوئے تھی ۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں میں نے جان لیا کہ آپ میرے مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ میں عرض گزار ہوئی کہ کیا اسے میں آپ کےلیے لے لوں ؟ آپ ﷺ نے سرِمبارک سے اثبات کا اشارہ فرمایا: پھر میں عرض گزار ہوئی کہ کیا میں اسے آپ کےلیے نرم کردوں؟ آپ نے اثبات میں سرِمباک سے اشارہ فرمایا۔ پس میں نے اسے چبا کر نرم کردیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.