رزق کے لئے بس 55 بار پڑھیں

رزق میں برکت کا وظیفہ آپ کے رزق میں بے پناہ اضافہ ہو گا آپ نے اللہ پر یقین رکھتے ہوئے یہ وظیفہ کرنا ہے یہ ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے کرنسے آپ اگر کھڑے تھے تو بیٹھنے سے پہلے اور اگر بیٹھے تھے تو کھڑا ہونے سے پہلے آپ کے قدموں میں دولت کا ڈھیر لگ جائے ۔یہ بہت طاقتور عمل ہے اس کے کرنے سے اللہ کی ذات آپ کو بے شمار نواز دے گی۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے دعا رد نہیں ہوتی اس وظیفے سے رزق میں کمی نہیں ہوگی۔ وظیفہ یہ ہے

نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ آیت ایسی آیت ہے کہ دعا کھبی رد نہیں کی جاتی دن کے کسی بھی مخصوص حصے میں تنہائی میں بیٹھ جائیں دو رکعت نفل پڑھیں پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیں اور پڑھیں اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم آیت الکرسی کی پہلی آیت ہے اس کو آپ نے صرف 55 بار پڑھ لینا ہے جب 55 بار لیں تو اللہ سے دعا کریں انشاءاللہ اللہ پاک اتنا عطا فرفایئں گے کہ حاجتیں پوری ہو جائیں گی اللہ کی ذات بے شمار رزق عطا فرمائے گی

یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔

اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو ایک دن انہوں نے اس میں کھجوریں کم دیکھیں ، وہ بیان کرتے ہيں کہ انہوں نے اس رات پہرہ دیا تورات ایک نوجوان کی شکل میں آیا میں نے اسے سلام کیا اوراس نے جواب دیا والد کہتے ہیں میں نے اسے کہا تم جن ہویا کہ انسان؟ اس نے جواب دیا کہ میں جن ہوں وہ کہتے ہیں میں نے اسے کہا اپنا ھاتھ دو اس نے اپنا ھاتھ دیا تووہ کتے کے ھاتھ کی طرح اور بالوں کی طرح تھا میں نے کہا کہ جن اسی طرح پیدا کیے گۓ ہیں ؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.