صرف تین دن میں کو لیسٹرول کو ختم کر کے دل کو صحت مند بنانے کے وہ طریقے

ناظرین اس سے پہلے والی ویڈیو میں ہم نے بات کی تھی کہ کو لیسٹرول کیا ہوتا ہے اور یہ آخر کیسے بڑھتا ہے ؟ کو لیسٹرول کا بڑھنا کتنا خطر ناک ہو سکتا ہے اور کن علا مات سے یہ جا نا جائے کہ جسم میں کو لیسٹرول بڑھا ہوا ہے بھی یا نہیں۔کولیسٹرول ہماری صحت کے لیے کتنا ایک خطر ناک ہے۔ آج کی اس ویڈ یو میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح آسان اور گھر یلو نسخوں کی مدد سے کو لیسٹرول کو کم کر کے نارمل حالت میں کس طرح لا یا جا سکتا ہے۔ یا کچھ خاص قسم کے نسخے ہیں جن کا اثر ہمارے جسم پر دوائیوں سے بھی زیادہ تیزی سے ہوتا ہے۔

جب بھی کو لیسٹرول یا دل کی بیماریوں کی بات آ تی ہے یا پھر جگر سے متعلق مسائل سامنے آ تے ہیں تو گھر یلو یا ہر بل نسخے ہی وہ طریقہ ہیں جن کو استعمال کر کے ان سب سے خطرناک کو جڑ سے ختم کر کے ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ تو چلیں ناظرین جان لیتے ہیں وہ گھر یلو طریقہ ِ علاج ۔ نا ظرین بات شروع کرتے ہیں کہ آ خر کار کو لیسٹرول ہمارے جسم میں کب اور کس عمر میں بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ ناظرین بچپن سے لے کر پندرہ یا اٹھاراں سال تک ہمارے جسم میں گروتھ ہوتی رہتی ہے۔ اس دوران جس طرح کی بھی غذا کھا تے ۔ ان غذاؤں کا حاصل شدہ کو لیسٹرول ہمارے جسم کی نشو و نما میں مدد کرتا ہے۔

جیسا ہی ہماری عمر 22سے 28سال تک پہنچتی ہے تو ہمارے جسم کی نشو و نما اور قد بڑھنا شروع ہو جا تا ہے۔ جیسے ہی گروتھ کا عمل رکتا ہے اس کے بعد ہمارے جسم میں کو لیسٹرول لیول بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ابتداء ہی میں کو لیسٹرول کو مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو کو لیسٹرول کا بڑھنا اور پوری طرح سے کم ہونا ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کا جا ننا بہت ضروری ہے کہ صرف پانچ فیصد معا ملات میں ہی دل کی کسی بیماری کی وجہ سے دل کا دورہ پڑتا ہے ورنہ 95%معاملات میں دل کے عارضے اور ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ کو لیسٹرول کا بڑھنا ہو تا ہے اور شریا نوں میں ہونے والی یہ رکاوٹ ہارٹ اٹیک اور برین ہیمرج کی وجہ ہوتی ہے۔

یہ بیماری اتنی بڑی اور خطرناک ہے لیکن پھر بھی اس مسئلے کو بنا کوئی دوائی کھائے گھر پر ہی ہمارے بتائے گئے چند اثر دار نسخوں کی بدولت کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ صرف چند نسخوں کا استعمال اور اپنی لائف سٹائل میں تھوڑی سی تبدیلی لا کر اس سے چھٹکا را ممکن ہے ۔ اس گھریلو اور اثر دار نسخوں کو جو اس خطر ناک بیماری سے ہماری جان چھڑ وا سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.