چلتے پھرتے یہ ایک آیت پڑھا کریں جتنی بھی مشکل حاجت ہوفوراً پوری ہوگی

آج کے اس وظیفہ میں ہم تمام مسائل کے حل کا وظیفہ بتائیں گے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اس قرآنی وظیفہ کی برکتوں سے میرے قرضے اُتر جائیں تو یہ وظیفہ بہت طاقتور ہے ۔ اسی طرح مال دار بننے کیلئے رزق حلال میں برکت کیلئے عزت دار بننے کیلئے یہ وظیفہ بہت ہی طاقتور ہے ۔

اگر کوئی انسان یہ چاہتا ہے کہ زندگی کا ہر رخ میرے لیے مکمل ہوجائے تو آپ کے لیے یہ وظیفہ مجرب ہے ۔آپ نے پورے یقین کیساتھ پوری توجہ کیساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے باامید ہوکر اس قرآنی وظیفہ کو کرنا ہے اس کی برکات آپ بہت جلد دیکھیں گے ۔ اگر آپ قرض داروں کی وجہ سے پریشان ہیں بُرے حالات کی وجہ سے پریشان ہیں شادی ،کاروبار ،نوکری کی رکاوٹ ہے حتیٰ کہ کوئی بھی پریشانی ہے آپ نے اس آیت مبارکہ کا وظیفہ کرنا ہے ۔وہ آیت یہ ہے ولسوف یعطیک ربک فترضیبہت ہی آسان سی آیت مبارکہ ہے ۔اس آیت مبارکہ کو آپ نے چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے با وضو بے وضو پورا دن جب بھی آپکو ملے

اس آیت مبارکہ کو پڑھتے رہنا ہے ۔جتنا پڑھ سکتے ہیں کھلا پڑھیں جتنے بھی آپ کے مسائل ہیں ان کی آپ نے نیت کرلینی ہے کہ یااللہ عزوجل اس قرآنی آیت کی برکتوں سے اپنے فضل وکرم سے میرے ان تمام مسائل کو حل فرما دے ۔انشاء اللہ رب نے چاہا ہمارا اعتقاد کامل ہوا تو چند ہی دنوں میں ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے قرض داریاں پریشانیاں سب ختم ہوجائیں گی ۔ اس وظیفہ کیساتھ آپ نے نماز کی پابندی کرنی ہے ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرنی ہے ۔صدقہ دینے کی عادت بنانی ہے ۔انشاء اللہ آپ کے تمام مسائل کا حل ہوگا۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ آج رات ضرور صدقہ کروں گا ۔

وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا۔ تو اس نے وہ صدقہ کا مال کسی زانیہ کے ہاتھ پر رکھا صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ رات کو زانیہ کو صدقہ دیا تو اس نے کہا اے اللہ! تیرے ہی لئے زانیہ پر صدقہ دینے پر تعریف ہے، پھر اس نے صدقہ کا مال مالدار کے ہاتھ میں دے دیا لوگوں نے صبح کو باتیں کی کہ رات کو مالدار پر صدقہ دیا گیا۔تو اس نے کہا اے اللہ مالدار پر صدقہ پہنچا دینے میں تیری ہی تعریف ہے اس نے مزید صدقہ دینے کا ارادہ کیا اور صدقہ دینے کے لیے نکلا تو چور کے ہاتھ میں دے دیا صبح کو لوگوں نے چہ میگوئیاں کیں کہ رات کو چور پر صدقہ کیا گیا تو اس نے کہا اے اللہ زانیہ مالدار اور چور تک صدقہ پہنچا دینے میں تیرے ہی لیے تعریف ہے اس کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا کہ تیرے سب کے سب صدقات قبول کر لیے گئے زانیہ کو صدقہ اس لئے دلوایا گیا کہ شاید وہ آئندہ زنا سے باز رہے اور شاید کہ مالدار عبرت حاصل کرے اور اللہ نے جو اسے عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرے اور شاید کہ چور چوری کرنے سے باز آجائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.