گردوں کی تمام بیماریوں کا علاج:فیل گردے بھی ٹھیک ہو سکتے ہیں

اللہ تعالی نے انسان کو گو گُردوں سے نوازا ہے یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے پیٹ کی طرف کمر میں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں گردہ 11 سینٹی میٹر لمبا کم و بیش سات سینٹی میٹر چوڑا اور دو یا تین سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے ہر گردے میں دس لاکھ سے زائد ناکی دار غدود نیفران یا فلٹر ہوتے ہیں گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں میں پندرہ سو لیٹر خ۔ون گزرتا ہے

گُردے انسانی جسم کے انتہائی اہم عضو ہیں جو جسم سےزہریلے مادے خارج کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور جسم میں باڈی فلوئڈ کا بیلنس رکھتے ہیں اور الیکٹرولائٹس کی مقدار کو پُورا رکھتے ہیں ہمارے جسم میں موجود خون دن میں کئی دفعہ گُردوں سے پاس ہوتا ہے اور گُردے اُسے ہر وقت صاف کرنے میں مصروف رہتے ہیں اورخون میں موجود نمک اور پانی اور منرلز کو ایڈجسٹ کرتے ہیں ہماری خوراک اگر ٹھیک نہ ہو تو خون میں موجود فاضل گندگی گُردوں میں جمع ہونی شروع ہوجاتی ہے اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو سُست کر دیتی ہے اور اگر یہ کسی بیماری کا شکار ہوجائیں تو یہ کام کرنا بند بھی کر دیتے ہیں اور ایسے میں ان کا علاج جہاں کافی مہنگا ہے وہاں مریض کو انتہائی تکلیف سے گُزرنا پڑتا ہےانٹرنیشنل کڈنی فاوندیشن کے مُطابق دُنیا میں کئی ملین افراد گُردوں کی بیماری کا شکار ہیں اور ہمارے مُلک پاکستان میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد اس بیماری میں مُبتلا ہےپانی زندگی ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے مگر حد سے نہیں بڑھنا چاہیے ڈاکٹرز کا کہنا ہے

کہ ایک مرد کو دن میں کم از کم 13گلاس پانی ضرور پینا چاہیے اور خواتین کو کم از کم 8 گلاس پانی روزانہ پینا چاہیےپانی گُردوں سے فاضل مادوں کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور  کو گُردوں سے نکال کر پی.شاب کے ذریعے جسم سے خارج کردیتا ہےپیاز بہت سی بیماریوں کا دُشمن ہے اس کے اندر موجود فلیوونوئڈزاور کیروسٹین خون کی نالیوں میں چربی کو جمنے نہیں دیتے اور یہ گُردوں کی دوست سبزی ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور پیاز کا استعمال گُردوں کی اوورآل کارکردگی کو بہتر بناتا ہےبندگوبھی ایک انتہائی مُفید سبزی ہے جو وٹامنز سے بھر پُور ہونے کیساتھ ساتھ اپنے اندرفیٹو کیمیکلز کی ایک بڑی مقدار کیساتھ اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کی حامل ہے یہ اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں گُردوں کے ڈیڈ سیلز کو مرمت کرتی ہیں

اور گُردوں کے افعال کو دُرست کرتی ہیں۔سُرخ شملہ مرچ جہاں کھانوں کو مزے دار بناتی ہے وہاں اس کے اندر موجود وٹامنز سی بی 6 اے گُردوں کے لیے انتہائی مُفید ہے اور وٹامن سی گُردوں کی صفائی کردیتا ہےسُرخ شملہ مرچ میں فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار ہوتی ہے جو نظام انہظام کے ساتھ گُردوں میں موجود مادوں کو فلٹر ہونے میں مدد کرتی ہے سُرخ شملہ مرچ اینٹی آکسائیڈینٹ بھی ہوتی ہے جو گُردوں کے ساتھ ساتھ جگر کے لیے بھی انتہائی مُفید ہےلہنس بیماریوں کے خلاف کسی میڈیکل سٹور سے کم نہیں جو خون کو صاف کرنے میں انتہائی معاون سبزی ہے اس کی اہنٹی آکسائیدینٹ خوبیاں گُردوں اور جگر کی مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

مچھلی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ گُردوں اور جگر میں جمی گندگی کو صاف کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہےگوبھی وٹامن سی فولیٹ اور فائبر سے بھرپُور سبزی ہے جو گُردوں کی دوست ہے جو اسے خون کو صاف کرنے میں فعال بناتی ہے۔روزانہ ایک سیب کھانا آپ کو ڈاکٹر سے محفوظ رکھتا ہے یہ جسم سے کولیسٹرال کا خاتمہ کرتا ہے اور گُردوں اور جگر کو فعال رکھتا ہے۔وٹامن سی سے بھرپُور لیموں گُردوں اور جگر کی صفائی کے علاوہ نظام انہظام کو بہتر بنانے میں انتہائی مدد گار ہے۔یہ فروٹس وٹامنز منرلز سے بھرپور ہونے کیساتھ ساتھ پانی سے بھی بھر پُور ہوتے ہیں اور جسم میں پانی کی کمی کو پُورا کرتے ہیں اور گُردوں کی سستی کو دور کرتے ہیںیہ ایک انتہائی کارآمد سبزی ہے جو جسم میں بلڈ شوگر کے لیے انتہائی مُفید ہے شوگر کی زیادتی گُردوں کو انتہائی نقصان پہنچاتی ہے اگر آپ گُردوں کی کسی بیماری میں مُبتلا ہیں تو اس سبزی کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں اور اُس جانیں کے آپ اس کی کتنی مقدار استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی زیادہ مقدار نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے

گردے فیل ہونے کی وجوہات

گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں گردے کی جھلی کی سوزش جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹر کرنا ہے یہ جھلی اگر کام نہ کرے کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس سے گردہ کام کرناچھوڑ دیتے ہیں اس سے پیشاب کے اندر خون یا چربی آنا شروع ہو جاتی ہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماً دس تا پندرہ سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہئیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے گردے خراب ہو جاتے ہیں بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.