گردے واش نہ کروائیں بلکہ خود یہ علاج کریں

گردے اور مثانے کے امراض کے بروقت تدارک، اورعلاج میں نباتات ، جڑی بوٹیوں، پھل اور سبزیوں کا استعمال بہت کارگر ثابت رہتا ہے ،ذیل میں ان کی افادیت کے بارے میں بتاتے ہیں جس سے اگر آپ کو گردوں کا مسئلہ ہے تو ایک بار استعمال کرکے دوبارہ ٹیسٹ ضرور کروائیں انشاءاللہ فائدہ ہوگا۔

اجوئن کا استعمال گردے اور مثانے کے مرض میں بے مفیدہوتا ہے۔ چھ ماشے دیسی اجوائن ، 2عدد تیز پات اور تین خشک انجیرپیس لیں، اس میںڈیڑھ پائو پانی ڈال کر ہلکی آنچ پرپکائیں۔جب پانی ایک پا ئو رہ جائے تو چھان کر ایک بوتل میں بھر لیں، اسے سات روز تک مسلسل استعمال کریں۔ گردے مثانے وغیرہ کی پتھریاں ٹوٹ کر جسم سے خارج ہو جائیں گی۔ اجوائن اور تیزپات، تین، تین تولہ۔ دونوں کو باریک پیس کرآپس میں یکجا کرلیں۔روزانہ صبح، دوپہر، شام، ایک سے تین چائے کےچمچے پانی کے ساتھ کھائیں۔چار کھانے کے چمچے لیموں کا رس،میٹھا سوڈا 10گرام ، پسی ہوئی ہلدی ایک چائے کا چمچہ ، ۔چینی 4 چائے کے چمچےاور پانی 600 ملی لیٹرلیں۔ایک دیگچی میںپانی ڈال کر ہلکی آنچ پر گرم کریں، پھر گرم پانی میں پہلے چینی ڈالیں ، اس کے بعد ہلدی اور لیموں کا رس ڈال کر اتناگرم کریںکہ آدھا رہ جائے۔ یہ جوس دو روز تک دن میں تین بارایک چائےکی پیالی پئیں۔ اس کے بعد دوبارہ اسی طرح تیار کرکے استعمال کریں، چند ہی روز میں فائدہ ہوگا۔

دو چائے کے چمچےلیموں کا رس ،اتنی ہی مقدار میں خالص شہد اور زیتون کا تیل ۔تینوں اشیا کو کپ میں ڈال کر حل کرنے کے بعد پی لیں۔ یہ عمل دو روز تک صبح و شام کریں۔گردہ، مثانہ اور پتے سے پتھریوں کو ریزہ ریزہ کرکے نکالنے اور ان کی مزیدافزائش روکنے کیلئے مفید نسخہ ہے۔ ایک عدد لیموں نچوڑ اس کا رس نکالیں، اس میں آٹھ کھانے کےچمچے شہد ملائیں، دونوں اشیاء کو آدھا گلاس پانی میںیکجا کرکےنصف کپ روزانہ دو بار پئیں۔ گردے اور مثانے کے امراض کے لیے بے حد مفید ہے۔مولی کا ہر کھانے کے ساتھ استعمال گردے کی تکلیف میں بے حد مفید ثابت ہوتاہے۔پیشاب میں رکاوٹ، ، جلن، یا قطرہ قطرہ آنا یہ تمام شکایات دور ہوجاتی ہیں۔مولی کا نمک بھی ،ان امراض کے لیے تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔

نمک بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ دو بڑی اور، سخت مولیاںلے کر، انہیں باریک کاٹ کر دھوپ میں سکھالیں،جب خشک ہوجائیں تو انہیں جلالیں، یہ راکھ ہو جائیں گی ۔اب اسے کسی برتن میں ڈال کر اس میں ایک گلاس پانی شامل کرکے چندروزڈھانپ کر رکھ دیں۔ پانی میں نمک اوپر آجائے گا اور راکھ نیچے بیٹھ جائے گی۔ اس کے بعد پانی نتھارکر خشک کرلیں ۔ سطح پر جو ہوگا اسے کھرچ کر شیشی میں بھرلیں یہ مولی کا نمک ہے۔ مثانہ کی پتھری، درد گردہ اورپیشاب میں خون آنےکی صورت میںیہ نمک اکسیرکاکام کرتا ہے۔پیاز سےسالنخوش ذائقہ ہوتاہے جب کہ چٹنی یا سلاد کی صورت میں پیاز کچی بھی کھائی جاتی ہے۔محققین نے اس کے بے شمار طبی فوائد بیان کیے ہیں، گردے اور مثانےکے امراض میںاس کا استعمال بہت مفید ہے۔ ایک پیاز کو کچل کر کسی باریک کپڑے میں لپیٹ لیں اور اس کا رس نکال کربوتل میں بھر کر رکھ دیں ۔ مریض روزانہ 25ملی لیٹر نہار منہ پیئے

انجیر ایک خوش ذائقہ خشک میوہ ہے،جس میں نہ توگٹھلی ہوتی ہے، نہ فالتو چھلکا۔ یہ مقوی ہونے کے علاوہ گردے کے مریضوں کے لیےبہت مفید ہے۔ پتھری کی وجہ سے اذیت میں مبتلا مریض روزانہ نہار منہ تین عدد انجیر کھائیں۔کلونجی کئی امراض میں تریاق کا کام کرتی ہے۔ گردے کے مریض ڈھائی سوگرام کلونجی کے بیج پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملاکر کسی شیشی میں بھرلیں۔ دو چائے کے چمچے نصف پیالی پانی میںحل کریں اور اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بارپئیں۔ایسا بیس روز تک کریں۔ گردے اور مثانےکے تمام امراض کے لیے مفید ہے۔ کلونجی کا جوشاندہ شہد میں ملا کر پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری خارج ہوجاتی ہے۔

تین اخروٹ توڑ کر ان کا مغز نکال لیں۔ دس دانے کشمش کے لیں اور دونوں کو پیس کر ایک کپ دودھ میں ملا لیں ۔روزانہ رات کو ایک چائے کاچمچہ سونے سے قبل کھائیں۔اس کے بعد دو دانے سبز الائچی کے کھالیں۔ اس سے پیشاب رات کو بار بار تنگ نہیں کرے گا، جب کہ گردے کے درد اور پتھری سےبھی نجات مل جائے گی۔آلو ایک سستی سبزی ہے جو ہر گھر میں مختلف طرح سے کھایا جاتاہے لیکن گردے، مثانے کے امراض اور پتھری کی صورت میں اس کا بہ طور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آلو کی چاٹ بنا کر اس میں روغن زیتون ڈال کر کھانے سے گردے کے درد سے نجات ملتی ہے۔ ایک یا دونوں گردوں میں پتھری کے مریض نصف کلو آلو ابالیں اور ان کا جو پانی باقی بچے اسے کسی برتن میں نتھار کر رکھ لیں ۔ روزانہ دن میں تین مرتبہ ابلا ہوا آلو نمک کے ساتھ کھائیں اور اس کے بعد برتن میں رکھا ہوا پانی پی لیں۔ چند ہی روز استعمال کے بعد پتھریاں ٹوٹ کر پیشاب کے ذریعے خارج ہوجائیں گی۔

انناس خوش ذائقہ اور رسیلاہونے کے علاوہ طبی خواص کا حامل پھل بھی ہے۔ گردے کے مریض اسے چھیل کر اس کی چند قاشیں جوسر میں ڈال کر رس نکال لیں اور دن میں تین مرتبہ پئیں۔ گردے اور مثانے کی پتھری کا خاتمہ کرتا ہے۔ایک چقندر کاٹ کر اسے دو گلاس پانی میںاتنا ابالیں کہ پانی گاڑھا ہو جائے۔ جب اچھی طرح اُبل جائے تو ٹھنڈا کرکے کسی برتن میں رکھ لیں اور اس کی ایک پیالی دن میں تین سے چار مرتبہ پئیں۔ایک خوش ذائقہ پھل ہے۔ گردے اور مثانےکی پتھری میں اس کا استعمال نہایت فائدہ مند ہوتا ہے۔پیشاب میں رکاوٹ ہو اور کمر میں گردے کی پچھلی طرف یا دونوںجانب درد رہتا ہے تو اس کے کھانے سےنجاتمل جائے گی۔ اس کا چھلکا بھی بہت مفید ہے، اس لیے گودا اتارتے وقت اسے ضائع نہ کریں۔ پانچ کلو وزن کے چھلکے چند روز تک دھوپ میں سکھانے کے بعد جلالیں۔ جب راکھ باقی رہ جائے تو اسے نصف جگ پانی میں ایک ہفتہ تک رکھیں۔ اس دوران دن میں پانچ سے سات مرتبہ اسے لکڑی یا کفگیر سے ہلاتے رہیں۔ ساتویں روز اس کا پانی نتھار کر، موٹے کپڑے سے چھان کر دھیمی آنچ پر پکائیں، یہاں تک کہ سارا پانی خشک ہوجائے اور صرف نمک برتن میں باقی رہ جائے۔ اسے کھرچ کر، کسی بوتل میں محفوظ کرلیں۔ دو رتی سے ایک ماشہ روزانہ صبح و شام چند روز تک پانی، دودھ یا لسی کے ساتھ استعمال کریں۔

نوشادر، پھٹکری اورقلمی شورہ ہم وزن لے کر انہیں پیس کر ملا لیں۔ یہ سفوف دو سے چار رتی روزانہ صبح مکھن کے ساتھ کھا کر اوپر سے لسی پی لیں، اگر کوئی شخص لسی نہ پینا چاہے تو سونف، دھنیا اور اجوائن کا قہوہ استعمال کریں۔ چند روز کے استعمال کے بعد پتھری ختم ہوجائے گی۔اس میں وٹامنز، منرل، پوٹاشیم، کیلشیم اور فولک ایسڈ کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے ، یہ کئی امراض کے لیے مفید ہے۔ گردے کے مریض ایک بھنڈی کو اوپر سے نیچے تک کاٹ کر اسے تین حصوں میں تقسیم کرلیں۔ ان ٹکڑوں کو ایک گلاس پانی میں ڈالیں۔ ساری رات اس پانی کوڈھانپ کر رکھ دیں۔ صبح ناشتے کے بعد یہ پانی پی لیں ، گردے کی بیماری کے لیے فائدہ مند ہے۔

ایک کریلے کودھوپ میں سکھا کر پیس لیں اور ایک کھانے کا چمچہ روزانہ پانی کے ساتھ کھائیں، اس کے ساتھ دو تولہ زیتون کا تیل پی لیں۔ یہ گردے کی بیماری میں فائدہ مند ہے۔اس بیماری کا قدرتی علاج سادہ پانی ہے۔ مٹی کے گھڑے میں چارگلاس پانی ڈال کر رات کو صحن میں رکھ دیں  اور اسمیں میتھی دانے ڈال دیں۔ صبح اٹھتے ہی نہار منہ یہ پانی پئیں۔ انشاء اللہ گردے کی تکالیف سے افاقہ ہوگا۔ دیسی مرغیگردے فیل ہونے کی صورت میں یہ ایک مجرب نسخہ ہے۔رات کواصیل مرغی ذبح کرنے کے بعد گرم پانی میں ڈال کر پر نوچ لیں اورپچھلی طرف چھوٹا سا سوراخ کرکے آلائشیں نکال کر اچھی طرح صاف کر لیں اور تھوڑی دیر الٹا لٹکا دیں تاکہ پانی نکل جائے پھر 100 گرام ہلدی لے کر مرغی میں بھردیں اور سوراخ کو روئی کا دھاگہ بنا کر سی لیں اس کے بعد اسے پتیلے میں ڈال کر اتنا پانی ڈالیں کہ مرغی سےپانی ایک انچ اوپر آجائے۔اس عمل کے بعد اسے ہلکی آنچ پر پکائیں۔رات بھر پکنے دیں صبح اتار کر ہلدی نکال کر خشک کرکے پیس لیں اور 500ملی گرام کے کیپسول بھر لیں ۔ روزانہ صبح شام ایک کیپسول پانی کے ساتھ مریض کو کھلائیں۔ اگر فیل ہونے والے گردوں میں تھوڑی سی بھی جان باقی ہوگی تو وہ دوبارہ فعال ہوجائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.