گلے میں ریشہ کا بہترین علاج

بلغم  ہر انسان میں ہوتا ہے اور یہ جسم کے لیے ضروری بھی ہے جو کہ مختلف ٹکڑوں کے لیے رکاوٹ کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے انزائمے اور پروٹین اپنے اندر رکھتا ہے جو کہ ہوا میں موجود جراثیموں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔مگر کھانسی کی صورت میں اس کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جو کہ کسی مسئلے کا عندیہ ہوسکتی ہے۔

بلغم کی زیادہ مقدار کیوں بنتی ہے؟جیسا اوپر بتایا جاچکا ہے کہ ہمارا جسم ہر وقت ہی بلغم بناتا ہے مگر جب اس کی مقدار بڑھ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ تبدیلیاں آرہی ہیں، یعنی وہ گاڑھا اور چپچپا ہونے لگتا ہے جو کہ کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا۔اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے الرجی، ناک ، گلے یا پھیپھڑے میں خراش، تمباکو نوشی یا نظام ہاضمہ کے مختلف امراض۔یعنی اس کی زیادہ مقدار موسمی نزلہ زکام یا فلو، الرجی، ناک، گلے یا پھیپھڑوں میں خراش، نظام ہاضمہ کے مکتلف مسائل، تمبا کونوشی، پھیپھڑوں کے امراض جیسے نمونیا یا کینسر وغیرہ کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

عام طور پر لوگوں میں کسی قسم کی الرجی اس مسئلے کا باعث بنتی ہے، جس سے چھینکیں بھی آنے لگتی ہیں اور ناک بہنا شروع ہوجاتی ہے۔اس مسئلے پر قابو پانی کے لیے مچھلی، کدو، انناس، سیب، لیموں، کھیرے، ادرک، پیاز ، لہسن اور زیتون کے تیل جیسی غذائیں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔کچھ مقدار میں آٹے کو شہد میں مکس کریں تاکہ یہ مکسچر ہاتھ پر چپک نہ سکے، تھوڑا سا زیتون کا تیل اور آٹا دوبارہ اس میں ڈالیں، ایک کپڑا لیں اور یہ پیسٹ اس پر لگا کر سینے پر رکھ دیں اور ٹیپ لگا دیں۔ رات بھر کے لیے لگا رہنے دیں

اور اگر بچے پر آزما رہے ہیں تو سونے سے دو سے تین گھنٹے قبل لگا کر سوتے وقت نکال دیں۔یہ بھی ایک موثر گھریلو ٹوٹکا ہے، اس کے لیے ایک چائے کا چمچ شہد، آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا، دو سے تین قطرے لیموں کے عرق اور ایک گلاس گرم پانی کی ضرورت ہوگی، ان تمام اجزاءکو پانی میں مکس کریں اور پھر اسے پی لیں۔ اس مشروب کو معمول بنانا پھیپھڑوں کو بھی صاف کرے گا جبکہ کھانسی پر قابو پانے میں مدد دے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.