کرونا کے بعد’نپاہ وائرس‘آ گیا کووڈ 19سے زیادہ خطرناک قرار

اسلام آباد  کورونا وبا سے پریشان ایشیائی ملکوں کو جلد ایک اور ابھرتے ہوئے نپاہ وائرس کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں موت کی شرح کہیں زیادہ ہے۔وائرس کے محققین انتباہ کر رہے ہیں اگر کورونا وائرس کی وبا سے سبق نہیں سیکھا گیا تو نپاہ وائرس میں بہت سے لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس وائرس کی وجہ سے اموات کی شرح 75 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق نپاہ وائرس جو سارس کووڈ ٹو کی طرح چمگادڑوں سے شروع ہوتا ہے، پچھلے 20 سالوں میں

ملائیشیا، سنگاپور، بھارت اور شمالی آسٹریلیا میں اس وبا کا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے۔فی الحال ایسی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے جو خاص طور پر نپاہ وائرس کے انفیکشن کو نشانہ بناسکتی ہو۔دستیاب معلومات کے مطابق 2018 میں بھارتی ریاست کیرالا میں نپاہ وائرس سے اموات بھی ہوچکی ہیں جبکہ اُس وقت بھی درجنوں افراد کو قرنطینہ کیا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.