ایک دفعہ سید نا عمر فاروق کو ایک بوڑھی خاتون نے راستے میں سلام کیا اور کہا

ایک دفعہ امیر المو منین سید نا عمر فاروق چند صحابہ کر ام کے ساتھ کسی بستی کی طرف جارہے تھے ایک بوڑھی خاتون راستہ میں ملیں، آپ نے انہیں سلام کیا وہ باتیں کرنے لگیں حضرت عمر بڑی توجہ سے سنتے رہے پھر کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کرو۔ خاتون نے بلا ہچکچاہٹ نصیحتوں کا دفتر کھول دیا اور کہا کہ اے عمر جب میں نے تم کو عکاظ کے بازار میں دیکھا اس وقت تم عمیر کہلاتے تھے لاٹھی ہاتھ میں لیے بکر یاں چراتے پھرتے تھے پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری کہ تم عمر کہلانے لگے پھر ایک وقت ایسا آیا کہ امیر المو منین کہے جانے لگے ذرا رعیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے اس کے لیے دور کی آدم بھی قریب کے رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے۔

اس پر حضرت عمر کے ایک رفیق نے کہا کہ اے خاتون! تو نے امیر المو منین کے ساتھ بہت زبان درازی کی حضرت عمر نے فر ما یا انہیں کہنے دو جانتے بھی ہو یہ کون ہیں؟ ان کی بات تو سات آ سما نوں کے اوپر سنی گئی تھی عمر کو بد رجہ اولی سننی چاہیے اگر یہ رات تک مجھے کھڑار کھتیں تو میں کھڑا رہتا۔ بس نمازوں کے اوقات میں ان سے معذرت کر لیتا۔ یہ حضرت خولہ ہیں جن کے بارے میں ظہار کے مسئلے پر سورۃ مجادلہ نازل ہوئی۔ حضرت عمر خدمت خلق اور انسانی ہمدردی کا پیکر تھے۔ بیواؤں یتیموں محتاجوں معذوروں لاوارثوں مصیبت زدوں کی تکلیف سے آپ بے تاب ہو جاتے تھے۔

جب تک ان کی تکلیف دور نہ کر لیتے چین نہ آ تا۔ بیواؤں اور مجا ہدین کے اہل و عیال کی ذاتی طور پر بہت خبر گیر ی کرتے۔ خود مشکیں بھر بھر کر کنو یں سے پانی اور بازار سے سودا سلف لا دیتے۔ محاذ جنگ سے مجا ہدین کے خط آ تےتو خود ان کے گھر پہنچاتے اگر گھر میں کوئی لکھنے والا نہ ہوتا تو خود ان کی دہلیز پر بیٹھ کر مجا ہدین کی بیو یوں کی طرف سے ان کے شو ہروں کو خط لکھ دیتے۔ایک دفعہ فر ما یا کہ اگر میں زندہ رہا تو مدینہ تو ایک طرف عراق تک کی بیو اؤں کو ایسا بنا دوں گا کہ میرے بعد کسی کی محتاج نہ رہیں مدینہ کے بہار ایک اندھی محتاج بڑ ھیا رہتی تھی اس کا کام کاج خود کر آتے اور ضرورت کی اشیاء بہم پہنچاتے۔

ایک موقع پر مدینہ کے بازار میں ایک نو جوان عورت نے آپ کو سر راہ رو ک لیا اور کہا کہ امیر المو منین! میں بیو ہ ہوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا ساتھ ہے جن کے لیے کھانے کپڑے کا کوئی سامان نہیں میں حضرت خفاف بن ایما ء انصاری کی بیٹی ہوں، جو حد یبیہ میں رسول اکرم ﷺ کے سا تھ تھے حضرت فاروق اعظم نے بیوہ کی درد بھری داستان سنی پھر اسے تھوری دیر رکنے کو کہا واپس آ ئے تو بہت المال سے آٹا ، کھجوریں، گھری کپڑا اور دوسری اشیائے ضرورت لے کر اونٹ پر لا دیں۔

اور اس کے پاس لے گئے اور کہا اے میری بیٹی ! یہ اونٹ اور سا مان رسد تیرے لیے ہے اسے لے جا آئندہ تمام ضروری سا مان تیرے گھر پہنچ جا یا کرے گا سفر شام سے واپسی پر راستے سے ذرا ہٹ کر ایک خیمہ دیکھا اونت روک کر وہاں گئے۔ ایک عمر رسیدہ نا بینا عورت موجود تھی ا سے پوچھا کہ خلیفہ کے متعلق کچھ جانتی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اتنا معلوم ہے کہ وہ شام سے واپس چل پڑا ہے خدا اس کا کبھی بھلا نہ کر ے اس سے مجھے کبھی کچھ نہیں ملا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.