بھائی کو کم اور دوست کو زیادہ اہمیت کیوں دی؟

اپنے غموں اور پریشانیوں کو سینے میں دفن کردو اگر انہیں چہرے پر سجاؤ گے تو کمزور ہوجاؤ گے۔تمہاری وجہ سے اگر کوئی بے سکون ہوجائے تو یادرکھو تم ظالموں میں سے ہو۔بہت سے رشتے ختم ہونے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے ایک صحیح بول نہیں پاتا اور دوسرا صحیح سمجھ نہیں پاتا۔کسی کی بیٹی کی زندگی خراب کرنا ایک قرض ہے

جو ایک نہ ایک دن آپ کی بیٹی کو اپنی زندگی سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ شہد کے سواہر میٹھی چیز میں زہر ہے اور زہر کے سوا ہر کڑوی چیز میں شفا ہے ۔دونوں صورتیں یقین کی ہیں بس انداز الگ الگ ہوتا ہے کچھ اللہ تعالیٰ پر سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے سب چھوڑ دیتے ہیں۔

اگر کبھی آپ کا دل بلا وجہ ہی بے سکون ہوجائے تو جان لینا کہ آپ کی روح اللہ کا ذکر مانگ رہی ہے ۔جب کہہ نہ پاؤ تو رو لیا کرو اللہ تو سب جانتا ہے۔رشتے مرجاتے ان کو بھی غذا چاہئے احسان کی ،ساتھ کی ،محبت کی اور سب سے بڑھ کر اظہار کی۔ ان لوگوں سے مت ڈروجو اپنا بدلہ لینا جانتے ہوں ہمیشہ ان لوگوں سے ڈرو جو اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دینے والے ہوں ۔ہمیشہ سمجھوتا کرنا سیکھوں کیونکہ تھوڑا ساجھک جانا کسی رشتے کو ہمیشہ کے لئے توڑ دینے سے بہتر ہے ۔کبھی کبھی خوشیاں اتنی ہوجاتی ہیں کہ زندگی کم لگنے لگتی ہے اور کبھی کبھی دکھ اتنے ہوجاتے ہیں کہ زندگی طویل اور بوجھ لگتی ہے ۔صبر کرنا اور قدر کرنا نصیب والوں کے حصے میں آتا ہے۔آپ کا دل بہت قیمتی ہے کوشش کریں۔

اس میں وہی رہے جو اس میں رہنے کے قابل ہیں جب ہم کسی رشتے سے تھکنے لگ جاتے ہیں تب ہمیں صرف اس میں خامیاں ہی نظر آنے لگتی ہیں ہزار غلطیوں کے باوجود آپ اپنے آپ سے پیارکرتے ہیں تو پھر کیوں کسی کی ایک غلطی پر اس سے اتنی نفرت کرتے ہو۔ جن باتوں پر جھگڑ اکر کے لوگ مٹی کے نیچے دفن ہوجاتے ہیں اگر انہیں باتوں پر مٹی دال دی جائے تو یہ نوبت ہی نہ آئے ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم اللہ سے ایسی حالت میں دعا کیا کرو کہ تم قبولیت کا یقین رکھا کرو اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غفلت سے بھرے دلوں کی دعا قبول نہیں کرتا اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے میں کیجئے کیونکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ انا کو جگاتا دیتا ہے۔

زندگی میں ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کو اپنی کمی محسوس کرواو مگر یہ دوری اتنی لمبی نہ کرو کہ کوئی آپ کے بغیر جینا ہی سیکھ لے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی غریب کو دینے پر صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے لیکن غریب رشتہ کو دینے پر دہرا اجر ملتا ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔زبان درندہ ہے اگر اسے آزاد چھوڑدو گے تو زخمی کر دے گی۔کسی کے جذبات کو اتنی چوٹ نہ پہنچاؤ کہ آپ کا خیال جب بھی اسے آئے تو اسے تکلیف ہی ہو۔ خوش رہا کرو کیونکہ پریشان ہونے سے کل کی مشکل دور نہیں ہوتی بلکہ آج کا سکون بھی چلا جاتا ہے اور یہ زندگی بہت مختصر ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.