حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک عوت مسجد میں ۔۔۔؟؟

ایک عورت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب مسجد میں نماز پڑھنے آتی ۔ تو ایک نوجوان اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ۔ دو چار دن نظرانداز کرنے کے بعد ایک دن وہ کھڑی ہوگئی اورپوچھا کیا ماجرا ہے ۔ نوجوان نے کہا: میں تیرا چاہنے والا ہوں۔ میرے دل میں تیرے لیے محبت کے بےپنا ہ جذبات ہیں۔ میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ اس عورت نے کہا ٹھیک ہے میری کوئی شرط نہیں ہے ۔ اگر تو میرا اتنا ہی چاہنے والا ہے ۔

تو صرف ایک شرط پوری کردے تو پھر میں تیرے لیے حاضر ہوں۔ اس نے شرط رکھی کہ وہ چالیس دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھ لے۔ آخری د ن کے آخری نماز کے بعدیہی ملاقات ہوگی۔ نوجوان نے کہا :یہ کونسا مشکل کام ہے۔ تیرے لیے تو میں کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔ یہ تو بہت آسان حل مل گیا۔ چالیس دن نمازیں چلتی رہیں۔ وہ نوجوان حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی پرسوز اور رقعت آمیز قرات سنتارہا۔ چالیسویں دن کے آخری نماز کے بعد جب وہ واپس پلٹنے لگا تو وہ عورت وہاں کھڑی تھی۔ نوجوان نظریں جھکا گزرنے لگا ۔

عورت نے کہا: میں حسب وعدہ کھڑی ہوں۔ نوجوان نے سرجھکا جواب دیا ۔ میرے دل کا تعلق عمر نے رب سے جوڑ دیا ہے۔ اب تم کھڑی رہو تو میں تمہاری طرف نظریں اتفاق بھی نہیں کروں گا۔ اس واقعے سے سبق ملتا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت ہمیں بھی نیک بنا دیتی ہے۔ اللہ سبحان وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے پیار ے اور اچھے بندوں کی صحبت عطا فرما ئے۔ آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.