ساری دنیا کا مال و دولت ایک طرف لیکن ان تین چیزوں سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، مسلمانوں جان لو

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا یاتی علیکم زمان ایک وقت آنے والا ہے تم پر لا یکون شیئ اعزَّ مِنْ ثلاث تین چیزوں سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز نہیں ہوگی ،حلال درہم سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز نہیں ہو ایسا بھائی جس کے پاس بیٹھ کر تم انس تانیس کی بات کرسکو کوئی دل کی بات کرسکو اور ایسی سنت اس وقت بہت مہنگی ہوجائے گی جس کو لوگ اختیار کریں گے کیونکہ بدعات پھیل چکی ہوں گی اور صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں یَاتِیَ عَلَی النَّاسِ زمان لا یبال المرء بمااخذ امن الحلال امن الحرام ایک وقت ایسا بھی آئے گا لوگوں کو یہ پرواہ ہی ختم ہوجائے گی اس کے ہاتھ میں آنے والا مال حلال کا ہے یا حرام کا ہے اور یہ قربِ قیامت کی نشانی ہوگی اور مال اتنا زیادہ ہو جائے گا یفیض المال مال پانی کی طرح بہتا نظر آئے گا لوگ کہیں گے کوئی صدقہ لے لے کوئی صدقہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا اللہ ذوالجلال حلال اور طیب اور وافر ہر مسلمان کو عطا فرمائے ۔ حدیث پاک میں ہے :کمان سے

نکلے تیر کی طرح دین سے خارج گروہ اور گمراہ لیڈر ظاہر ہوں گےاور اسی طرح قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (علمِ) کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا وہ کتابِ الٰہی کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (کتاب) ان کے درمیان (نزاعات کا) فیصلہ کر دے تو پھر ان میں سے ایک طبقہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ روگردانی کرنے والے ہی ہیںo یہ (روگردانی کی جرأت) اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ مس نہیں کرے گی، اور وہ (اللہ پر) جو بہتان باندھتے رہتے ہیں اس نے ان کو اپنے دین کے بارے میں فریب میں مبتلا کر دیا ہےo سو کیا حال ہوگا جب ہم ان کو اس دن جس (کے بپا ہونے) میں کوئی شک نہیں جمع کریں گے، اور جس جان نے جو کچھ بھی (اعمال میں سے) کمایا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا

تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگااور جو شخص رسول ( ﷺ ) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا پھانسی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یا قید) کر دیے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.