رات سونے پر بس یہ ایک لفظ پڑھ لو

پیارے دوستو !!! نفسا نفسی  اور بے پناہ مسائل کے اس دور میں تقریباً ہر شخص ذہنی  دباؤ اور ٹینشن کا شکار ہے۔ بعض ٹینشن کو تو ذہن سے نکا لا جا سکتا ہے لیکن کوئی ٹینشن ایسی بھی ہوتی ہے جسے ذہن سے نکالنے کی لاکھ کو شش کریں تو بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اب تو ماڈرن سائنس نے بھی یہ ایجاد کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں زیادہ تر بیماریوں کا وجود ٹینشن ہی کی وجہ سے ہے۔ ٹینشن لینے سے بلڈ پر یشر اور شوگر ہائی ہو  جاتی ہے اور اسی وجہ سے انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ جب ٹینشن ہو تی ہے تو بیوی کے ساتھ لڑائی۔ بچوں کے ساتھ لڑائی اور حتیٰ کہ ساری رات نیند نہیں آتی۔ اور نیند نہ آ نے کی وجہ سے سارا دن انسان سست اور کمزور رہتا ہے۔

آپ نےکبھی سو چا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ کیا سہولیات اور پیسہ نہ ہو نے کی وجہ سے انسان ٹینشن میں چلا جاتا ہے؟ ایسا بھی بالکل نہیں ہے۔ امریکہ کے مشہور ڈاکٹر نے اعدادو شمار جاری کیا کہ ٹینشن کے لیے ہمارے ملک میں بہت ساری کمپنیاں دوائیں بناتی ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ ہماری کمپنی کی صرف ایک دوائی جو ٹینشن کے لیے بنائی گئی تھی۔ امریکہ ، کینیڈا اور  یو کے میں دو سو کھرب کا بسنس کیا۔اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اتنے ترقی یافتہ مما لک میں صرف ٹینشن کے لیےصرف ایک دوائی کھربوں کا بسنس کر رہی ہے۔تو ہمارا ملک پاکستان تو ہے ہی ترقی پذیر مما لک۔ تو میں تو زیادہ ٹینشنز ہو نی چاہیں۔  پیارے دوستو یاد رکھیں جتنا ہم اللہ کے نبی اور اسلام سے دور ہوتے جائیں گے اتنی ہی ہماری پریشانیوں اور ٹینشنز میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

جب ہماری زندگی سے اللہ کی یاد نکل جائے گی تو ہماری زندگی میں پریشانیاں ، ٹینشنیں ، مصیبتیں اور ٹینشن وجود میں آ ئیں گی۔ اس لیے اسی رب نے جس نے یہ سارا جہاں پیدا کیا۔ ہمیں پیدا کیا۔ اس نے قرآن  مجید میں واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اے میرے بندو۔ تم کان کھو ل کر سن لو ۔ تمہارے سینے میں جو قلو ب رکھے گئے ہیں۔ وہ صرف ہماری یاد سے ہی سکون مل سکتا ہے۔ ہم نے تمہارے سینوں میں ایک ایسا گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا ہے جو ہماری یاد سے ہی پر سکون ہو گا۔ جس کو ہماری یاد سے ہی سکون آ ئے گا۔ ایک ایسا گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا ہے جس کی غذا صرف میری یاد ہے۔ ملک و ملت جس نازک دہرائے سے گزر رہے ہیں اس میں بظا ہر تاریکی ہی تاریکی ہے۔ گھروں میں بازاروں میں، سڑکوں پر، غرض جہاں آپ چلے جائیں۔ بے چینی ہی بے چینی ہے۔ ہر کوئی بے سکون نظر آ رہا ہے۔ زبانوں پر ایک ہی سوال ہے۔ آئندہ کیا ہوگا۔ دلوں میں ایک ہی تمنا اور آرزو کہ کسی طرح ٹینشنز کا یہ پہاڑ سر سے ٹل جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.