حضرت زینب ؓ اپنے علاقہ میں انتہائی خوبصورت مانی جاتی تھیں خاندان بھی اعلیٰ وارفع قریش کا تھا

حضرت زینب اپنے علاقہ میں انتہائی خوبصورت مانی جاتی تھیں۔ خاندان بھی اعلیٰ وارفع تھا قریش کا ۔ اللہ کے نبیﷺ کا خاندان عرب میں سب سے اونچا خاندان تھا۔ اسی اثناء میں اللہ کے نبیﷺ نے ایک رشتہ بھیجا وہ رشتہ کیا تھا ؟حضورﷺ کے ایک منہ بولے بیٹھے تھے،جن کا نام حضرت زید بن حارثہ تھا ، یہی وہ زید ہیں جن کا قرآن میں نام آیا ہے ان کے سوا کسی اور صحابی کا نام قرآن میں نہیں ہے اگرچہ کہ ا ن سے بڑے بڑے صحابہ ہیں حضرت ابوبکر ؓ ۔

حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ وغیرہ مگر کسی کا نام قرآن میں نہیں ہے ۔ صرف حضرت زید کا نام قرآن میں آیا ہے ۔ تو حضورﷺ نے حضرت زینب کیلئے ان کا رشتہ بھیجا او ران کے بھائیوں کو اس سلسلہ میں متوجہ کیا لیکن ان کے گھر والوں کو یہ رشتہ پسند نہیں آیا اس لیے کہ حضرت زید ایک تو تھے غلام جسے حضورﷺ نے آزاد کردیا تھا۔ اور ان کا کوئی خاص نسب بھی نہیں تھا اور عرب میں نسب کا بہت اعتبار ہوتا تھا اور تیسرے یہ کہ وہ کوئی بہت خوبصورت حسین وجمیل بھی نہیں تھے ۔ ان تینوں اعتبار سے حضرت زینب ان سے بہت ہی اعلیٰ وارفع تھیں۔ اس لئے ان کے خاندان والوں کو یہ رشتہ پسند نہ آیا اور تذبذب میں پڑگئے

کہ مانیں کہ نہ مانیں اس وقت اللہ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی کہ کسی بھی معاملہ میں چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بھی چاہے وہ تمہاری عبادات سے متعلق ہو یا معاملات سے دین کا معاملہ ہو یا دنیا کو کوئی مسئلہ ہو کسی بھی قسم کا معاملہ ہو جب اس میں اللہ اور اللہ کے نبی کا کوئی علم آجائے تو کسی کو کوئی اختیار نہیں کہ اپنا بس چلائیں اور اپنی مرضی پر چلیں دیکھئے یہاں شادی کا مسئلہ تھا پسند ناپسند کا مسئلہ تھا رسول اللہﷺ نے کہہ دیا کہ یہ رشتہ ہے اس کو قبول کرو دوسری جانب سے کچھ تذبذب کا معاملہ آگیا تو قرآن میں آیت نازل ہوئی کہ اللہ کے رسول کی طرف سے ایک بات جو تجویز ہو۔ اور انکی تجویز کو ٹھکرا کر اپنی مرضی پر چلنا چاہو تو اسکا مومن کو بلکل اختیار نہیں ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.