قب ر کے اندر مکمل اند ھیرا تھا میں نے اپنے ناک سے روئی نکالی اور ۔۔۔۔؟؟ م رنے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا ،

شام کا وقت اور میں سائیکل پر سوا ر گاؤں کی نہر کے ساتھ واقع کچی سڑک پر اپنی سوچوں میں گم چلتا جارہا تھاکہ اچانک مجھے چکر سا آگیا اور میں سائیکل سمیت نہر میں جا گر اور پانی میں ڈوب گیا۔ میں نے بہت ہاتھ پاؤں مارے اور کنارے کی طرف جانے کی کوشش کی مگر پانی کے زور آگے میری ایک نہ چلی حالانکہ میں بیس سال کو جوان لڑکا تھا لیکن شاید میری م و ت ایسے ہی لکھی تھی میرے پیٹ میں پانی بھر گیا ۔ اورمجھے چکر آنے لگے میں نے بے بس ہو کر خود کو حالات کے سپر د کردیا

پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا، پتا نہیں وہ کونسا پہر تھا، جب میری آنکھ کھلی میں نے خود کو مکمل اندھیرے کمرے میں پایا۔ اٹھنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ میرے پاؤں بندھے ہوئے ہیں مجھے فوراً گڑ بڑ کا احساس ہوا کہیں میں قبر میں تو نہیں ہوں؟پھر اچانک یا د آیا کہ میں سائیکل پرجاتے ہوئے نہر میں گرگیا تھا اور پانی میں ڈوب کر مر گیا تھا۔ مجھے اچانک اپنے ماں باپ اور بھائی بہن یاد آئے تو میرا کلیجہ غم سے پھٹنے لگا کہ میری م وت پر ان کی کیاحالت ہوئی ہوگی۔

آہ! میر ی خالہ کی بیٹی صند ل جس سے میری منگنی ہوئی تھی وہ مجھے کتنا چاہتی تھی میرے بغیر وہ کتنا بے چین اور اداس ہوگی یہ سب باتیں سو چ کر میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ میں اتنے جلد ی مرگیا پھر میں سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور حساب کتاب کرنے والے فرشتوں کا انتظار کرنے لگا میں سو چ کر پریشان ہو رہا تھا۔ کافی وقت گزر گیا لیکن ق بر میں کوئی فرشتہ نہ آیا۔ پھر میرے دماغ میں خیال آیا کہ کہیں میں زندہ تو نہیں ؟ ہوسکتا ہے

میرے گھر والے غلطی سے مجھے مردہ سمجھ کر دفن کرگئے ہوں کیا پتا میں نہر میں گر کر صرف بے ہوش ہوا ہوں یہ سوچ کر میں اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔ میرا سر زور سے کسی چیز سے ٹکرایا ، میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ سمینٹ کی سلیب تھیں جو کہ قب ر پر ڈال کر اوپر مٹی ڈالی گئی تھی۔ میں نے دونوں ہاتھ اوپر کرکے زور لگایا۔ لیکن وہ نہ ہلی ، اب میں پاگلوں کی طرح سلیب کے ایک کونے سے مٹی کھرچنی شروع کردی۔ وہ تیزی سے نیچے گرنے لگی جس سے میرا حوصلہ اور بڑھ گیا۔

تازہ مٹی کی خوشبو سے پتا لگ رہا تھا کہ مجھے دفن ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی کافی دیر مٹی کھرچنے کے بعد مجھے ہلکی سی روشنی نظر آئی ساتھ ہی تازہ ہوا کا جھونکا میری ناک سے ٹکرایا اب میں مزید جو ش سے یہ کام شروع کردیا۔ اگلے پندرہ بیس منٹ بعد میں ق بر سے باہر آ چکا تھا ۔ میں نے کف ن کو اچھی طرح سے جسم پر لپیٹ لیا اور قریب نلکے سے ٹھنڈا پانی پیا۔ شام کا وقت تھا میں سر جھکائے گھر کی طرف جارہا تھا۔ تھوڑ ا آگے جا کر مجھے محلے کا ایک آدمی ملا وہ ایسا گھبرایا کہ بیل چھوڑ کر شور مچاتا ہو اگھر کی طرف بھاگ نکلا ، تو اس کا مطلب سب کو میرے مرن ے اور دف ن ہونے کا معلو م ہوگیا تھا۔ جبھی وہ مجھے کف ن سمیت زندہ دیکھ کر بھوت سمجھ کر بھاگ گیا تھا۔

جب میں اپنے گاؤں میں داخل ہوا تو پہلے ہی محلے میں میری خالہ کا گھر تھا میں نے سوچا کہ پہلے خالہ سے ملوں اور ساتھ اپنی منگیتر صندل کو بھی دیکھ لوں گا۔ مجھے وہ زندہ دیکھ کر وہ کتنی خوش ہوگی میں جیسے ہی ان کے گھر میں داخل ہوا صحن میں کوئی نہ تھا میں نے آگے جاکر کچن میں دیکھا تو میری منگیتر آٹا گوندھ رہی تھی۔ اس نے الٹے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں مل کر غور سے مجھے دیکھا پھر وہ دھڑا م سے گندھے ہوئے آٹے پر گرگئی اور بے ہوش ہوگئی۔ اور لوگوں کی نظروں سے بچتا بچاتا گھر پہنچ گیا۔ ہمارا گھر رشتے داروں سے بھرا پڑا تھا۔

جیسے ہی انہوں نے مجھ کو دیکھا تو اکثر کی چیخیں نکل گئیں اور کچھ تو غش کھا کر گر بھی پڑے۔ لیکن میرے ماں باپ میرے پاس آئے اور بے رخی سے کہنے لگے کہ جاؤ جان چھوڑو دو ہمار ا بیٹا مرچکا ہے۔ اس کا بھوت ہوں۔ ماں باپ کی بہت منتیں کیں ان کو یقین دلانے کی کوشش کی میں کوئی بھوت نہیں ہوں بلکہ تمہار ا بیٹا ہی ہوں ۔کسی نے میری بات کو یقین نہ کیا۔ بلکہ مجھے کہنے لگے کہ تم واپس چلے جاؤ ہم قرآن خوانی کروائیں گے ۔ تاکہ تمہاری بےچین روح کو سکون آجائے۔

اپنی بے بسی پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ میں مایوس ہو کر اپنے گھر سے نکل آیا اور رات کے اندھیرے میں چلتا چلتا ایک دوسرے گاؤں کی مسجد میں جا پہنچا۔ دوازہ کھلا دیکھ کراندر داخل ہوگیا بھوک سے میرا براحال تھا مسجد کے صحن میں کوئی مسافر بیٹھا روٹی کھا رہا تھا۔ اس کے پاس گیا اور روٹی چھین کر بھو کوں کی طرح کھانے لگا۔ وہ تو پہلے ہی کف ن پوش کو دیکھ کر ڈرا ہوا تھا ۔ چپکے سے اٹھا اور اپنا جوتا مسجد میں چھو ڑ کر باہر کو دوڑ لگا دی۔

میں نے روٹی کھا کر ٹو نٹی سے پانی پیااور مسجد کے اندر کونے میں بیٹھ گیا اور دعا کرنے لگا کہ کسی طرح میری مصیبت ختم کردے ۔ میں روتے روتے کب سو گیا اچانک آذان کی آواز آئی۔ میری آنکھ کھل گئی امام مسجد نے آذان مکمل کی اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ اور شفقت سے پوچھنے لگا کہ بیٹا کون ہو کیا مسئلہ ہے ؟ قب ر سے باہر آنے کے بعد یہ پہلا شخص تھا جو مجھ سے ڈرا نہیں تھا بلکہ مجھ سے ہمدردی جتا رہاتھا۔ میں نے روتے روتے ہوئے اس کو اپنی ساری کہانی سنا ڈالی۔

]امام مسجد نے کہا کہ بیٹا کئی بار ایسا ہوجاتاہے کہ ڈاکٹر بے ہوش مریض کو مردہ قرار دے دیتے ہیں تمہارے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا اسی لیے تمہارے گھر والے تم کو دفن کر آئے اب وہ کیسے اتنی آسانی سے تم کو زندہ دیکھ کر مان لیں۔ خیر امام صاحب نے مجھے ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور جیسے ہی دن چڑھا مجھے ساتھ لے کر میرے گھر جاپہنچے ۔ اور میرے ماں باپ کو پاس بٹھا کر ساری بات سمجھائی وہ پھر بھی مجھے شک کی نظروں سے دیکھ بھوت سمجھ رہے تھے۔

امام صاحب نے ایک چھر ی منگوائی اور میرے ہاتھ پر پھیر دی جس کی وجہ سے میرا تازہ خون نکل کر بہنے لگا پھر میرے گھر والوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ دیکھو بھوت یا روح میں خون نہیں ہوتا یہ تمہارا اصلی بیٹا ہی ہے۔ اب تو سب کے صبر کے بندھن ٹوٹ گئے اور میرے گلے لگ کر خوشی سے رونے لگ پڑے سب نے مجھے زندہ قبول کرلیا اور یوں اللہ پاک کے خاص کر م سے ایک بار پھر نارمل زندگی گزارنے لگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.