گردوں کو فیل ہونے سے بچانا چاہتے ہو تو یہ تحریر ضرور دیکھو

گردے انسانی جسم کا اہم حصہ ہیں۔ یہ بلڈ سے فاسد مادے جذب کرتے ہیں جو پیشاب کی صورت ہمارے جسم سے خارج ہوتے ہیں اس کے علاوہ گردے جسم میں پانی کی مقدار بلڈ پریشر بلڈ میں ریڈسیلز کی تعداد اور تیزابی مادوں کی مقدار متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گردے پیشاب کی نالی سے جڑے ہوتے ہیں کچرے کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔دنیا میں ہر سال تقریباً پچا س ہزار سے زائد افراد گردوں کے مختلف امراض کیوجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ جبکہ گردے کے مریضوں کی تعداد لاکھوں یا کروڑوں میں ہوگی ۔

لیکن ہم اپنی غذائی آلات کا خیال رکھ کر گردوں کے تکلیف دہ مرض سے بچ سکتے ہیں۔ یہ بات آسٹریلیا میں ہونیوالی ایک نئی میڈیکل ریسرچ میں سامنے آئی ہے ۔ صحت بخش غذا کا استعمال گردوں کے امراض کا شکار ہونے کا خطرہ ممکنہ طور پر کم کرسکتا ہے ۔اس تحقیق کے دوران دس سال سے زائد عرصے تک چھ لاکھ تیس ہزار افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا ۔ نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ پراسس گوشت زیادہ نمک والے غذاؤں اور سوفٹ ڈرنک کی جگہ پھلوں سبزیوں اور مچھلی کو ترجیح دینا گردوں کے امراض کا خطرہ تیس فیصد تک کم کرسکتا ہے ۔ یہ تو پہلے سے معلوم تھا کہ غذائی عادات سے گردوں کے امراض کے پھیلنے کے عمل کو سست کیا جاسکتا ہے یہ واضح نہیں تھا کہ صحت بخش غذا کس حد تک ان امراض سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے ۔

ایکسپرٹس کے مطابق تحقیق کے نتائج سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ صحت بخش غذا جسم کیلئے کس حد تک فائدہ مند ہوسکتی ہے تحقیق کے دوران ماہرین نے چھ لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد پر ہونیوالی اٹھارہ تحقیقی رپورٹس کا جائزہ لیا ۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اچھی غذا نہ صرف گردوں کے امراض کا خطرہ کم کرسکتی ہے ۔ بلکہ گردوں کو نقصان پہنچنے کا امکان بھی تئیس فیصد تک کم ہوجاتا ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق پھلوں سبزیوں اور کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات کا استعمال گردوں کی صحت کیلئے فائدہ مند ہے اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے کلینکل جنرل آف دی امریکن سوسائٹی انفرولوجی میں شائع ہوا ہے ۔اس سے پہلے اسی سال کے شروع میں ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ضروری نہیں کہ گردوں کے افعال درست رکھنے کیلئے روزانہ آٹھ گلاس پانی پیا جائے چار سے چھ گلاس پانی بھی گردوں کی صحت کیلئے کافی ثابت ہوسکتا ہے ۔

جسم میں سوڈیم لیول کو متوازن رکھنے کیلئے مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت ہے ۔ ڈی ہائیڈریشن بلڈ پریشر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ گردے دوران بلڈ کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں پانی کی کمی ان سے برداشت نہیں ہوتی جسم میں پانی کی کمی ہو نا صرف بلڈ پریشر متاثر ہوتا ہے ۔ گردوں کی جانب دوران بلڈ بھی کم ہوجاتا ہے یہ ضروری ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت کو اپنایا جائے ۔ ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر اور اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ہم سب کو اس بیماری سے بچائے جو افراد اس مرض میں مبتلا ہیں انہیں شفائے کاملا عطاء فرمائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.