حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دانائی کے چند مشہور واقعات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکمت اور لوگوں کے سوال

دنیا میں بے شمار انسان پیدا ہوئے ہیں۔ جن میں سے اکثر ایسے ہوئے جن میں کوئی کمال اور خوبی نہیں ۔ اور بعض لوگ ہوئے جو صرف چند خوبیاں رکھتے تھے۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ ذات گرامی ہیں جو بہت سے کمالات اور خوبیوں کے مالک ہیں۔ کیونکہ آپ شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفی ٰ بھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور اکر م ﷺ کے چہیتے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے۔اور بچپن سے ہی حضور اکر مﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی۔ بحثیت کے بعد جب حضور اکر مﷺ نے جب قبیلہ بنو ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔

اس وقت آپ کی عمر آٹھ بر س کی تھی۔ آپ کو شجاعت وبہادری کےعلاوہ علم اور فضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔ ایک مشہور حدیث ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔” حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ پوچھو پوچھو جو پوچھناہے بیشتر اس کے کہ میں تم میں نہ رہوں۔ پوچھنے والے پوچھتے رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بتاتے رہے۔

ایک دفعہ کچھ لوگوں نے میٹنگ کی اور طے پایا کہ حضرت علی سے ایسا مسئلہ پوچھیں جس کا جواب طویل اور یوں نماز مغر ب قضاء ہوجائے ۔ نماز مغرب کی ادائیگی میں وقت تھوڑ اہوتا ہے ۔ آذان کی آواز آتی ہے اور نماز کھڑی ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حضرت علی نماز مغرب پڑھانے لگے تو طے شدہ بات کے مطابق لوگ مسئلہ پوچھنےکےلیے مسجد میں آگئے ۔ لوگوں نے سوال کیا یاعلی بتائیے کہ وہ کونسی جنس ہے جو انڈے دیتی ہے اور کونسے بچے ؟ سوال انتہائی اہم اور سوال پوچھنے والوں کا یہ خیا ل تھا کہ حضرت علی مختلف اقسام کی مخلوق کی گنتی کریں گے کہ فلاں انڈے دیتی ہے اورفلاں بچے دیتی ہے۔

اور نماز مغرب ہر حال میں قضاء ہوجائے گی۔حضرت علی نے فوراً جواب دیا کہ جن کے اندر ہیں وہ انڈے دیتی ہے جن کے کان باہر ہیں وہ بچے دیتی ہے۔ اور یہ کہہ کر اللہ اکبر پڑھ کر نماز شروع کردی۔ شہر علم کا دروازہ حضرت علی کا جوا ب اب بھی کائنات کے ذرے ذرے اپنے علم وعرفان کا خراج وصول کر رہا ہے۔ ایک واقعہ ہے کہ دو شخص کھانا کھارہے تھے ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس تین روٹیاں تھیں۔ جب دونوں نے کھانا شروع کیاتو وہاں ایک تیسرا شخص آیا اور وہ بھی شامل ہوگیا۔ اور تینوں نے مل کر آٹھ روٹیاں کھالیں۔تیسرا شخص کھڑا ہوا اور جاتے ہوئے آٹھ درہم دیتے ہوئے

بولا کہ یہ کھانے کا معاوضہ ہے جو میں نے تمہارے ساتھ کھایا ہے۔ اس کے جانے کے بعد دونوں میں بحث و تکرار شروع ہوئی جس کی پانچ روٹیا ں تھیں اس نے کہا میں پانچ درہم لوں گا اور تجھ کو تین درہم ملیں گے ۔ کیونکہ تمہاری روٹیاں تین تھیں۔ تین روٹی والے نےکہا میں کم ہرگز نہیں لوں گامیں چار درہم لے کر چھوڑوں گا ۔ یہ جھگڑا اتنا طول پکڑ گیا کہ بالآخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ آپ نے دونوں کے بیانات سن کر تین روٹیوں والے سے فرمائے کہ تم کو تین درہم ملے گا یہ کم نہیں ہے کیونکہ تمہاری روٹیاں بھی تھیں۔ لہذا تم کو جو ملتاہے اسی پر راضی ہوجاؤ۔ مدعی بولا میں اپنا حق پورا لوں گا۔ آپ نے فرمایا: اگر حق کی بات کرتے ہو تو تمہارے حق کا صرف ایک درہم ہے۔

تین درہم جو تم کو مل رہے ہیں تمہارے حق سے کہیں زیادہ ہیں۔ مدعی بولا آپ نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔ تین درہم تو یہ شخص تو خود دے رہاتھا میں اس پر راضی نہ ہوا اور آپ فرمارہے ہیں تیرا حق ایک درہم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک تمہار ا حق ایک درہم ہے ۔ تمہار ا فریق تمہیں تین درہم دے رہاتھا لیکن تم نے بات نہیں مانی۔ اگر تم نہیں مانتے تو سن لو کہ تمہارا حق کیا بنتا ہے ۔ مد عی نے عرض کیا حضور کوئی معقول وجہ بیان کریں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ آٹھ آٹھ روٹیوں کے تین برابر کے کروتو چوبیس ٹکڑے بنتے ہیں یہ چوبیس ٹکڑے تم تین آدمیوں نے کھائے ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ کس نے زیادہ کھایا ہے اور کس نے کم ۔ فرض کیا سب سے برابر کھایاہے توسب نے آٹھ آٹھ ٹکڑے کھائیں ہیں۔ تیری روٹی سے صرف ایک ٹکڑ ا بچا جوتیسرے نے کھایااور تمہارے فریق کی پانچ روٹیاں تھیں ۔ جن کے پندرہ ٹکڑے ہیں۔ اس نے آٹھ خود کھائے اور سات تیسرے کو کھلائے اور تمہارےتین روٹیوں کے نو ٹکڑوں میں سے صرف ایک ٹکڑا تیسرے آدمی نے کھایا ہے۔ جس کا معاوضہ ایک درہم بنتا ہے۔ اور تمہارے فریق کے سات ٹکڑے کھائے جس کا معاوضہ سات درہم ہے۔ یہ فیصلہ سن کر مدعی بولا کہ آپ نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ بے شک میرا حق ایک درہم ہے میں اسی پر راضی ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.