بدبختی کی نشانی یہ ہے کہ وہ انسان ۔۔؟

جب تک انسان میں چار اوصاف یکساں نہ ہوجائیں کامل سے بعید رہتا ہے۔ اور یہ چاروں اوصاف عزت، ذلت ، منع اور عطا ہیں۔ نفس کا دخل کسی حالت میں بھی نہ ہونا اخلاص کی نشانی ہے۔ او ریہ عوام کا اخلا ص ہے لیکن خاص یہ اخلاص خود بخود طاری ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوص نیت کا نام ہی اخلاص ہے۔ خ وف اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور غرور اللہ تعالیٰ سے دور کرتا ہے۔ جو آدمی بات چیت کرتے وقت شرم حیاء کو مدنظر رکھے مگر شرمائے

نہ تو اسے اللہ کی طرف سے مہلت ہوتی ہے۔ شقاقت و بدبختی کی نشانی یہ ہے کہ وہ انسان گن اہ کرتاہے۔ اطاعت ، سعادت مندی کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ س ڈرو، تاکہ مردود نہ ہوجاؤ۔ بخشش کی امید رکھو اور مایوس نہ ہو۔ ۔ عام آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کی زندگی میں صرف تین موقعے ایسے آتے ہیں جب وہ تنہا ء سب کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے ۔ عقیقہ ، نکاح اور تدفین۔زندگی بہت مختصر ہے سمجھ آتے آتے گزر جاتی ہے۔

دل میں کوئی بات نہ رکھیں، نہ جھگڑا طویل ہونے دیں۔ معاف کردیں، کیونکہ معافی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے خو ش رہیں اللہ تعالیٰ ہمارے معاملات میں آسانیاں پیدا فرما ئے۔ مرد ساری عمر جھڑکیاں کھا کر دھکے برداشت کرتا ہوا کفالت کی راہ نہیں چھوڑتا مکان بنواتا ہے پردیسیوں کی مٹی پھانکتا ہے آخر میں جوان بچے کہتے ہیں اباجی آپ کوئی ڈھنگ کا کام کرلیتے تو زندگی نہ سنور جاتی ۔ اگر عورت آپ سے آپ کا مرد چرالے تو اسے وہیں رہنے دیں کیونکہ اصل مرد کبھی چ وری نہیں ہوتے ۔

رشتے احساس سے بنتے ہیں رنگ نسل اور چال دیکھ کر تو جانور خرید ے جاتے ہیں ۔ محبت بے کسی کا بس نہیں ہوتی۔ اور اس میں کبھی بھی انکار مت کرنا۔ ورنہ محبت کھو بیٹھو گے اور رہے گا زندگی بھر پچھتاوا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.