دو باتیں چہرے پر سجالو مگر خیال رکھنا کہ ؟

ایماندار ضرور بنو پر اپنے آپ کو استعمال مت ہونے دو لوگوں سے پیار ضرور کرو ، پر اپنے آپ کو ٹھیس مت لگنے دو۔اگر ہمیشہ اپنے سے اوپر والے انسانوں کو دیکھو گے تو کبھی خوشی نہیں پاؤ گے اوراگر اپنے سے نیچے والے انسانوں کو دیکھو گے تو زندگی کو کبھی غمگیں ہیں پاؤ گے ۔دنیا میں آج انسان کی سوچ کا یہ عالم ہے کہ اگر انسان کو اس کے منہ پر اس کی سچائی بتائی جائے تو اسے قبول کرنے کی بجائے اسے بدتمیز کہا جاتا ہے ۔ایک غریب انسان چاہے جتنی مرضی پیار اور خلاق کی بات کرے دوسرے انسان اس کو اس کی مجبوری ہی سمجھے گا اور اس کے اخلاق کا غلط فائدہ اٹھائے گا۔کچھ لوگ ہماری مدد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، لیکن وہ مدد نہیں بلکہ مدد کا دکھاوا کرتے ہیں صرف اپنی شہرت اور عزت حاصل کرنے کے لئے ، یہی وجہ ہے کہ جو وعدہ وہ کرتے ہیں ، ان کو پورا نہیں کرپاتے۔اگر ہم چاہیں تو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں ،

ضرورت ہے تو صرف ایک قدم آگے بڑھانے کی ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ہمت کی محنت کی ایمانداری کی اور جنون کی۔اس دنیا میں اکیلے چلنا سیکھ لو کسی سے مشورہ مانگو گے تو مفت میں مل جائے گا لیکن اگر کسی سے مدد مانگو گے تو مدد مانگنے پر پچھتاؤ گے۔آج مدد کے نام پر بھی دھوکے دیئے جاتے ہیں آج اپنے ہمدرد بھی ہمیں درد دے جاتے ہیں ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو،

میں تمہیں بخش دوں گا، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.