رات کو سونے سے قبل سورہ بقرہ کی دو آیات پڑھ لیں اور پھر معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھیں

اللہ ربّ العالمین کا یہ فضلِ عظیم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کواپنی رحمت ومغفرت کے اسباب مہیا کیے ہیں ۔ ان میں سے ایک سبب سورہئ بقرہ کی آخری آیات ِ بیّنات بھی ہیں۔ ان کی فضیلت نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنیے: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے سورہئ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے خزانے سے دی گئی ہیں۔ ان جیسی آیات نہ پہلے کسی کو ملی ہیں اورنہ بعد میں کسی کو ملیں گی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو تین چیزیں دی گئیں: 1۔ پانچ نمازیں 2۔ سورہئ بقرہ کی آخری آیات اور 3۔ شرک کے سوا ااپ کی امت کے لیے تمام گناہوں کی معافی۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اورزمین کی پیدائش سے دو ہزار پہلے ایک کتاب لکھی۔

اس میں سے دوآیات نازل فرمائیں، جن کے ساتھ سورہئ بقرہ کا اختتام فرمایا۔ جس بھی مکان میں یہ آیتیں دن راتیں پڑھ دی جائیں ، شیطان اس میں ٹھہر نہیں سکتا۔ ابوالاسودظالم بن عمرو الدؤلی کہتے ہیں : ”میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ مجھے وہ قصہ بیان کریں،جب آپ نے شیطان کوپکڑ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے صدقہ (کی حفاظت)پر متعین کیا۔ کھجوریں کمرے میں پڑی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ کم ہورہی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوآگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجوریں شیطان لے جاتا ہے۔ایک دن میں کمرے میں داخل ہوا اوردروازہ بند کردیا۔ اندھیرا اس قدر شدید تھا کہ اس نے دروازے کو ڈھانپ لیا۔ شیطان نے ایک صورت اختیار کی ،پھردوسری صورت اختیارکی ۔ وہ دروازے کے شگاف سے اندر گھس آیا۔ میں نے بھی لنگوٹا کس لیا۔ اس نے کھجوریں کھانا شروع کردیں۔ میں نے جھپٹ کر اُسے دبوچ لیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! (تو کیاکررہا ہے؟)اس نے کہا: مجھے جانے دو۔ میں بوڑھا ہوں اورکثیرالاولاد ہوں۔ میراتعلق نصیبین (بستی کانام) کے جنوں سے ہے۔ تمہارے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کی بعثت سے پہلے ہم بھی اسی بستی کے باسی تھے۔ جب آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )مبعوث ہوئے توہمیں یہاں سے نکال دیاگیا۔ (خدارا!) مجھے چھوڑ دیں۔ میں دوبارہ کبھی نہیں آؤں گا۔ میں نے اسے چھوڑدیا۔ جبرئیلuنے آکر سارا معاملہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوبتادیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منادی کرنے والے نے منادی کی کہ معاذ بن جبل کہاں ہے؟ میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کے قیدی کا کیامعاملہ ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوسارا معاملہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عنقریب دوبارہ ضرور آئے گا۔ آپ بھی دوبارہ جائیں۔ میں نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کردیا۔ شیطان آیا ،دروازے کے شگاف سے اندر گھسا اورکھجوریں کھانا شروع کردیں۔ میں نے اس کے ساتھ وہی پہلے والا معاملہ کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تُو نے آئندہ کبھی نہ آنے کا وعدہ کیاتھا ۔ اس نے کہا: میں آئندہ کبھی نہیں آؤں گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب کوئی تم میں سے سورہئ بقرہ کی(آخری آیات للّٰہ ما فی السموات والأرض ۔۔۔ )نہیں پڑھے گا تواسی رات ہم میں سے کوئی اس کے گھر میں داخل ہوجائے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.