رمضان المبار ک میں بھی 3 اشخاص کی بخشش نہیں ہوتی

رمضان کے فضائل سے متعلق ایک طویل حدیث میں چار اشخاص کا ذکر ہے کہ ان کی رمضان میں بھی مغفرت نہیں ہوتی، جو درج ذیل ہیں:۔ایک وہ شخص جو ش۔راب کا عادی ہو۔2۔دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو ۔3۔تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو ۔‘‘

اس حدیث کا ایک حصہ درج ذیل ہے، ملاحظہ ہو :”حق تعالیٰ شانہ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہ۔نم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہ۔نم کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں ، اور جب رمضان کا آخری دِن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آخری رمضان تک جس قدر لوگ جہ۔نم سے آزاد کیے گئے ہوتے ہیں اُن کے برابر اُس ایک دِن میں آزاد فرماتے ہیں ۔اور جس رات ’’شبِ قدر‘‘ ہوتی ہے تو اُس رات حق تعالیٰ شانہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ( زمین پراُترنے کا ) حکم فرماتے ہیں، وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اُترتے ہیں ، اُن کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے، جس کو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ہیں ۔

حضرت جبرئیل ؑ کے سو (100)بازو ہیں جن میں سے دو بازو صرف اِسی ایک رات میں کھولتے ہیں ، جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں ، پھر حضرت جبرئیل ؑ فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان آج کی رات کھڑا ہو یا بیٹھا ہو، نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کر رہا ہواُس کو سلام کریں اور اُس سے مصافحہ کریں اور اُن کی دُعاؤں پر آمین کہیں ، صبح تک یہی حالت رہتی ہے، جب صبح ہوجاتی ہے تو حضرت جبرئیل آواز دیتے ہیں : ’’اے فرشتوں کی جماعت! اب کوچ کرواور چلو!۔‘‘ فرشتے حضرت جبرئیل سے پوچھتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے مؤمنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا ؟‘‘ وہ کہتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے اِن پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرمادیا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ’’ وہ چار شخص کون سے ہیں؟ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اور1۔ایک وہ شخص جو ش۔راب کا عادی ہو۔2۔دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو ۔3۔تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو ۔‘‘پھر جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس رات کا نام آسمانوں پر ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ (یعنی انعام کی رات) رکھا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں ، وہ زمین پر اُتر کر تمام گلیوں اور راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے (کہ جس کو جنات اور انسانوں کے علاوہ ہر مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں : ’’اے حضرت محمدﷺ کی اُمت! اُس کریم رب کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے ، پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں

: ’’کیا بدلہ ہے اُس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں : ’’اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اُس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اُس کو پوری پوری دے دی جائے ۔‘‘ تو حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اُن کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاکردی ۔‘‘ اور بندوں سے خطاب فرماکر ارشاد ہوتا ہے : ’’اے میرے بندو!مجھ سے مانگو! میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم! آج کے دِن اپنے اِس اِجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے میں پورا کروں گا اور دُنیا کے بارے میں جو سوال کروگے اُس میں تمہاری مصلحت دیکھوں گا ۔ میری عزت کی قسم !جب تک تم میرا خیال رکھوگے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (اور اُن کو چھپاتا رہوں گا)، میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے ذلیل اور رُسوا نہیں کروں گا ۔ بس! اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ ! تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘پس فرشتے اِس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اِس اُمت کو افطار (یعنی عید الفطر )کے دِن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اورکھِل جاتے ہیں۔‘‘(الترغیب و الترہیب)شعب الإيمان (5/ 277)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.