یہ2کام زندگی سے سکون ختم کرتے ہیں۔

امام علی ؑ کی خدمت میں ایک شخص عرض کرنے لگا یا علی وہ کونسے کام ہیں جس کو کرنے والا زندگی میں سکون نہیں پاتا بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو امام علی ؑ نے فرمایا اے شخص میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سناکہ دو صفتیں ایسی ہیں جس انسان میں ہوتی ہیں اس انسان کی زندگی سے سکون چلاجاتا ہے تو اس نے پوچھا یا علی کونسے اوصاف تو امام علی ؑ نے فرمایا پہلی صفت حسد اور دوسری صفت لالچ یاد رکھنا جو انسان اللہ کی مخلوقات سے حسد کرتا ہے جیسے جیسے وہ حسد کرتاجائے گا ویسے ویسے وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی زندگی کے سکون کو ختم کرتا جائے گا ۔

حسد و کینہ ایسی بری عادت ہے جس کی مذمت میں بہت سی اَحادیث بیان ہوئی ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ حسد نعمت پر ہی ہوا کرتا ہے۔ پس جب اللہ تبارک وتعالیٰ کسی بندہ کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو دوسرے شخص کو اْس کے پاس وہ نعمت بْری معلوم ہو اس کو حسد کہیں گے۔حضرت سیّدنا آدم ں کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے حسد کرنے والا ابلیس ہے اور یہ حاسدین کا قائد ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اَولاد میں حسد کی آگ میں جلنے والا قابیل ہے جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔حسد کے تین درجے ہیں پہلا درجہ یہ ہے کہ حاسد دوسروں کی نعمت کا زوال چاہے کہ خواہ مجھے نہ ملے مگر اِس کے پاس سے بھی جاتی رہے۔

اِس قسم کا حسد مسلمانوں پر گناہ کبیرہ ہے اور کافر فاسق کے حق میں حسد کرنا جائز مثلاً کوئی مالدار اپنے مال سے کفر یا ظلم کر رہا ہے اْس کے مال کی اِس لئے بربادی چاہنا کہ دْنیا اس کے کفر و ظلم سے بچے جائز ہے۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ حاسددوسرے کی نعمت خود لینا چاہے کہ فلاں کا باغ یا اْس کی جائیداد میرے پاس آ جائے یا اُس کی ریاست کا میں مالک ہوں یہ حسد بھی مسلمانوں کے حق میں حرام ہے۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ حاسد اس نعمت کے حاصل کرنے سے خود تو عاجز ہے اِس لئے آرزو کرتا ہے کہ دوسرے کے پاس بھی نہ رہے تاکہ وہ مجھ سے بڑھ نہ جائے یہ بھی منع ہے۔اور جو انسان لالچ کو مقدم رکھتے ہوئے۔

شکرکو چھوڑ دے گا تو لالچ اس کو قبر کے اندھیرے تک مسلسل بھگاتی رہے گی اور یوں نہ وہ زندگی میں سکون پائے گا اور نہ آخرت میں ۔لالچ کا انجام: دنیا کی ہر چیز خصوصاً مال و دولت کو ضرورت سے بہت زیادہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے کو لالچ کہتے ہیں یہ بہت ہی بُری خصلت اور نہایت خراب عادت ہے حرص و لالچ انسان کو بے شمار مصائب میں مبتلا کردیتا ہے کیونکہ لالچی شخص کسی مقام پر بھی مطمئن نہیں ہوتا اور لالچ بے شمار گناہوں کا سرچشمہ ہے بہرحال آدمی کو چاہیے کہ جو رزق و نعمت اور مال و دولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے اس پر راضی ہوکر قناعت کرلینا چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں۔

مال کی حرص اور عمر کی حرص حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مرتبے کے لحاظ سے قیامت کے روز سب انسانوں سے بدتر وہ بندہ ہوگا جس نےدوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی عاقبت برباد کرلی۔لالچ کا علاج: لالچ کا علاج یہ ہے کہ آدمی ٹھنڈے دل سے غور کرے کہ اس کی حرص اور طمع آخر ہے کس لیے؟ اگر کھانے پینے کی خاطر ہے تو گدھے اور بیل وغیرہ اس سے کہیں زیادہ پیٹ بھر کر کھانے کے عادی ہوتے ہیں اگر شان و شوکت پوشی مطلوب ہے تو کتنی غیرقومیں اس ضمن میں آگے بڑھی ہوئی ہیں غرض ہر برائی کیلئے متبادل مثال کسی بُری شے میں دکھائی دے گی۔ ہاں اگر طمع سے ہاتھ اٹھالے اور تھوڑے پر صبر کرنا سیکھ لے تو اسے اپنی مثال انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام میں دکھائی دے سکتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.