بطرس اور شام کے عیسائیوں نے مسلمانوں پر ح م لہ کر کے مسلمان خواتین کو گرفتار کرلیا۔

حضرت خولہ ؓ کی بہادری اور کارنامے کسی تعارف کے محتاج نہیں… اپنے بھائی حضرت ضرار ؓ کو کافروں کی قید سے چھڑانے والا ان کا ایمان افروز واقعہ تو آپ نے کئی بار پڑھا اور سنا ہوگا، ا ج ایک اور واقعے سے اپنے ایمان کو جلاء بخشتے ہیں۔ہواکچھ یوں کہ حضرت ضرار ؓ والے واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد شام کے عیسائیوں نے اپنے ایک کمانڈر بولص اور اس کے بھائی بطرس کی قیادت میں مسلمانوں کے ایک چھوٹے لشکر پر حملہ کرکے کچھ مسلمان خواتین کو گرفتار کرلیا، جن میں حضرت خولہ ؓ بھی شامل تھیں۔ ان خواتین کو لے کر بطرس اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد نہر استریاق کے کنارے آگئی اور باقی عیسائی بولص کی کمان میں مسلمانوں سے نبرد آزما رہے ، لیکن پھر آخر کار مسلمان خواتین کی بہادری اور مسلمانوں کے حملے سے ان خواتین کو چھڑالیا گیا۔ وہ کیسے ؟ ملاحظہ فرمائیے!بطرس خواتین عرب کو گرفتار کرکے نہر استریاق پر پہنچا تو اپنے بھائی کے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے ٹھہر گیا۔ وہاں اس نے اپنے سامنے ان عورتوں کو بلا کر کھڑا کیا۔ حضرت خولہ بنت ازور رضی اﷲ عنہا سے زیادہ خوبصورت چونکہ اس کو کوئی عورت نظر نہ آئی اس لیے اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ میری ہے اور میں اس کا ہوں۔

اس کے بارے میں کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے۔ لوگوں نے اس کی اس بات کو منظور کرلیا۔ پھر اسی طرح ہر ایک دمشقی ایک ایک عورت کی طرف اپنے ناپاک ہاتھ اٹھا اٹھا کر کہنے لگا کہ یہ عورت میرے لیے ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بکریوں اور اس مال کو جو لوٹ کر لے گئے تھے، جمع کیا اور بولص کا انتظار کرنے لگے۔ان گرفتار شدہ عورتوں میں اکثر قوم حمیر، قبیلہ عمالقہ اور تبایعہ کی بڑی بوڑھیاں تھیں، جو گھوڑے کی سواری، راتوں رات سفر کرنے اور وقت پر قبائل عرب سے مقابلہ کرنے کی خوگر اورعادی تھیں۔ یہ سب عظیم اور غیرتمند خواتین آپس میں جمع ہوئیں اور حضرت خولہ بنت ازور رضی اﷲ عنہا نے انہیں مخاطب کرکے کہا: حمیر کی بیٹیو! اور اے قبیلہ تبع کی یادگارو!کیا تم اس بات پر رضا مند ہو اور یہ چاہتی ہو کہ رومی کافر اور بے دین تم پر غالب آجائیں؟ تم ان کی لونڈیاں، باندیاں بن کر رہو۔ کہاں گئی تمہاری وہ شجاعت اور کیا ہوئی تمہاری وہ غیرت جس کا چرچا عرب کی لونڈیوں میں اور جس کا ذکر عربی مجلسوں میں ہوا کرتاتھا؟ افسوس میں تمہیں غیرت وحمیت سے خالی اور شجاعت وبراعت سے دور دیکھ رہی ہوں۔ میرے نزدیک اس آنے والی مصیبت سے تمہارا ق ت ل ہوجانا بہتر اور رومیوں کی خدمت کرنے سے مرجاناافضل ہے۔ یہ سن کر عفیرہ بنت عفار حمیریہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بنت ازور! تم نے ہماری شجاعت وبراعت، عقل ودانائی، بزرگی اور مرتبہ کے متعلق جو کچھ بیان کیا، وہ واقعی سچ ہے

اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہمیں گھوڑے کی سواری کی عادت ہے اور دشمن کا رات کے وقت بھی قافیہ تنگ کردینا آتا ہے۔ مگر یہ تو بتلائیے کہ جو شخص نہ گھوڑا رکھتا ہو، نہ نیزہ، اس کے پاس کوئی ہتھیار ہو نہ تلوار ، ایسا شخص کیا کرسکتاہے؟ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں دشمن نے اچانک گرفتار کرلیا۔ ہمارے پاس اس وقت کوئی سامان نہیں، ہم بکریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہ سن کر حضرت خولہ رضی اﷲ عنہا نے کہا: قبیلہ تبایعہ کی بیٹیو! تمہاری غفلتوں کا کچھ ٹھکانا ہے؟ خیموں کی لکڑیاں اور ستون تو موجود ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم انہیں اٹھا اٹھا کر بدبختوں پر حملہ آور ہوں۔ ممکن ہے کہ ارحم الراحمین ہماری مدد کریں اور ہم غالب آجائیں۔ ورنہ کم از کم شہید ہی ہو جائیں تاکہ یہ کلنک کا ٹیکہ تو ہماری پیشانیوں پر نہ لگنے پائے۔ عفیرہ بنت عفار رضی اللہ عنہ نے کہا: واﷲ میرے نزدیک بھی یہ آپ کی رائے بہت زیادہ صحیح اور پسندیدہ ہے۔ اس کے بعد ہر ایک عورت نے خیمہ کی ایک ایک لکڑی اٹھائی۔ حضرت خولہ بنت ازور رضی اﷲ عنہا خود بھی کمر باندھ کر ایک بڑی سی لکڑی کاندھے پر رکھ کر آگے ہوئیں۔ ان کے پیچھے عفیرہ بنت عفار، ام ابان بنت عتبہ، سلمہ بنت نعمان بن المقر اور دیگر عورتیں چلیں۔اسلام کی ان بہادر بیٹیوں نے ہل من مبارز کا نعرہ مارا اور جنگ کے لئے تیار ہوگئیں۔ اس وقت حضرت خولہ رضی اﷲ عنہا نے اپنی اس نسوانی فوج کو مخاطب کیا اور اس طرح تنظیم اور قواعد کا سبق دینے لگیں:زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسری سے ملی رہنا، متفرق ہرگز نہ ہونا۔ اگر خدانخواستہ تم متفرق ہوگئیں تو یاد رکھنا تمہارے سینوں کو نیزے توڑ دیں گے اور تمہاری گردنوں کو تلواریں کاٹ ڈالیں گی۔ تمہاری کھوپڑیاں اڑ جائیں گی اور تم سب یہیں ڈھیر ہو کر رہ جاؤ گی۔

یہ کہہ کر آپ نے قدم بڑھایا اور ایک رومی کے سر پر اس زور سے لکڑی ماری کہ وہ زمین پر گر پڑا اور مرگیا۔ رومیوں میں کھلبلی پڑگئی۔ ایک نے دوسرے سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا ہوا؟ اچانک لکڑیاں اٹھائے عورتوں کو اپنی طرف آتے دیکھاتو بطرس نے چیخ کر عورتوں سے کہا:بدبختو یہ کیا کرتی ہو؟حضرت عفیرہ بنت عفار الحمیریہ نے جواب دیا: آج ہم نے ارادہ کرلیا ہے کہ ان لکڑیوں کے ذریعے تمہارے دماغوں کو درست اور تمہاری عمروں کو ختم کرکے اپنے اسلاف کے چہروں سے ننگ وعار کا دھبہ مٹادیں۔ بطرس یہ سن کر ہنسا اور اپنی قوم کو مخاطب کرکے کہنے لگا کہ تم پر تف ہے، تمہیں چاہئے کہ تم انہیں جدا جدا کرکے زندہ ہی پکڑ لو۔ تم میں سے جو شخص خولہ کو پکڑے اسے چاہئے کہ کسی برے کام کا خیال تک نہ لائے کیونکہ وہ میری ہے۔بطرس کا یہ حکم سنتے ہی رومیوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر کر حلقہ باندھ لیا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان تک پہنچیں مگر جیسے ہی کوئی شخص ان کے قریب پہنچتا تھا یہ پہلے لکڑیوں سے اس کے گھوڑے کے ہاتھ پیر توڑ دیتی تھیں اور جس وقت وہ سوار الٹے منہ گرتا تھا تو ضربیں مار مار کر اس کا سر توڑ دیتی تھیں، اس لیے ان تک کوئی نہ پہنچ سکا۔ان بہادر خواتین نے اسی طرح تیس سوار موت کے گھاٹ اتاردیئے۔

بطرس یہ دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا۔ گھوڑے سے نیچے اترا اور اس کے ساتھ اس کے ہمراہی بھی پیدل ہوگئے۔ پھر وہ سب نیزے اور تلواریں لے کر خواتین اسلام کی طرف بڑھے۔ خواتین آپس میں ایک دوسرے کی طرف لپکیں اور آپس میں کہنے لگیں: ذلت کی زندگی سے عزت کے ساتھ مرجانا بہت زیادہ افضل ہے۔ اس کے بعد بطرس نے عورتوں کے مقابلے میں اگرچہ بہت ہاتھ پیر مارے مگر ان کی بہادری اور شجاعت کے سامنے کف افسوس ملنے کے سوا اور کچھ نہ کرسکا۔ حضرت خولہ بنت ازور رضی اﷲ عنہا کی طرف اس نے دیکھا جو ایک شیرنی کی طرح دوڑ رہی تھیں اور ان کی زبان پر یہ اشعار جاری تھے:ہم قبیلہ تبع اور حمیر کی لڑکیاں ہیں ہمارے لیے تمہیں ق ت ل کرنا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ ہم لڑائی میں دہکتی ہوئی آگ ہیں آج تم سخت عذاب میں مبتلا ہوگے! بطرس نے جب آپ کی زبان سے یہ اشعار سنے، آپ کا حسن وجمال دیکھا اور قد رعنا ملاحظہ کیا تو آپ کے قریب آ کر کہنے لگا: اے عربیہ! تم اپنے ان کاموں سے باز آجاؤ۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ میں تمہارا مالک بن جاؤں؟ حالانکہ میں وہ شخص ہوں جس کی تمنا میں تمام عیسائی عورتیں رہتی ہیں، پھر میں زراعتی زمین،

باغات مال واسباب اور بہت زیادہ مویشیوں کا مالک اور بادشاہ ہرقل کے نزدیک ذی مرتبت اور صاحب عزت شخص ہوں اور یہ سب کچھ تمہارے لیے ہی ہے، تمہیں چاہئے کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنی جان کو اپنے ہاتھوں سے نہ گنواؤ! حضرت خولہ رضی اﷲ عنہا نے جواباً فرمایا: کافر… بدبخت … فاجر کے بچے … خدا کی قسم! اگر میرا بس چلے تو میں ابھی اس لکڑی سے تیرا سر توڑ کر بھیجا باہر نکال ڈالوں۔ واﷲ ! میں اپنی اونٹ اور بکریاں بھی تجھ سے نہ چرواؤں چہ جائے کہ تو میری برابری اور ہمسری کا دعوی کرے۔ بطرس یہ سن کر غصہ میں بھر گیا اور ساتھیوں سے کہنے لگا کہ تمام ملک شام اور گروہ عرب میں اس سے زیادہ اور کیا شرم کی بات ہوگی کہ عورتیں تم پر غالب آجائیں۔ یسوع مسیح اور بادشاہ ہرقل کے خوف سے ڈرو اور انہیں ق ت ل کردو۔رومی یہ سن کر جوش میں آگئے اور سب نے مل کر خواتین پر یک لخت حملہ کردیا۔ خواتین اس شدید حملہ کو صبر و استقامت سے برداشت کر رہی تھیں کہ اسی دوران انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور ان کے لشکر کو دیکھا جو گرد وغبار اڑاتا ہوا اب ان کے قریب پہنچ چکا تھا۔ مجاہدین کی تلواریں چمکتی ہوئی خواتین کو نظر آرہی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.