حضرت سید نا علی المر تضی ؓ نے فر ما یا کہ جس گھر میں مکڑی کا جالا صاف نہ کیا جا ئے

دنیا بھر میں اس کی بے شمار قسمیں ہیں آٹھ ٹانگیں بغیر جبڑے کا منہ دنیا بھر میں پائی جانے والی مکڑیاں جگہ اور موسم کے اعتبار سے مختلف رنگوں اور جسامت کی حامل ہو تی ہیں تما م مکڑیوں میں جالا بنانے کی صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہو تی ہے یہ جا لا رشیمی لہمیات پر مشتمل ہو تا ہے زیادہ تر مکڑیاں اس جالے کو شک اری ہتھیار کے طورپر استعمال کر تی ہیں اپنی خوراک حاصل کر تی ہیں

مکڑیوں کی کچھ اقسام ہیں مکڑیوں کی کچھ اقسام بے زرر ہو تی ہیں جب کہ کچھ انتہائی ز ہ ر یلی بھی ہو تی ہیں ان کی خوراک کیڑے مکوڑے۔ اکثر مکڑیاں اپنے اندر سے ایک گاڑھا لوعاب نکالتی ہیں ۔جس سے وہ جا لا بنتی ہیں جالا ان کی رہا ئش گاہ اور شکار گاہ ہوتا ہے اچھی خاصی جسامت کی ہوتی ہے مکڑی کی آٹھ ٹانگیں ہوتی ہیں اور آٹھ ہی آنکھیں ہو تی ہیں مکڑیاں ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں یہ کیڑے مکوڑوں کی تعداد پر قابو رکھنے میں مدد دیتی ہیں جو پودوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں عام طور پر گھروں میں اندرونی کیڑوں جیسے مچھر اور مکھی وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہیں۔ایک مکڑی ایک سال میں تقریبا 2000 کیڑے کھا جاتی ہے ایک اندازے کے مطابق

زمین پر 100 ملین سالوں سے مکڑیوں کے جالے موجود ہیں۔مکڑیاں پروٹینیم ریشم سے ایک ڈھانچہ تیار کرتی ہیں جسے مکڑی کا جال کہا جاتا ہے۔ جالا بنانے میں مکڑی کوتقریباََ ایک گھنٹہ لگتا ہے ، اور وہ عام طور پر ہر روز ایک نیا جالا تیار کرتی ہیں۔تمام مکڑیاں اپنا کھانا جالوں میں نہیں پکڑتیں۔ بھیڑیا نامی مکڑی کی ایک قسم زمین میں ایک سوراخ بنا دیتی ہے اور شکار کے قریب آنے تک انتظار کرتی رہتی ہے۔ آٹھ آنکھیں ہونے کے باوجود زیادہ تر مکڑیاں کی بینائی کمزور ہوتی ہے جس سے وہ اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتی اور اپنے شکار کے حرکت سے محسوس کرتی ہیںجب مکڑی انڈے دیتی ہے تو وہ انہیں ایک ریشم کی قسم سے تیار کردہ تھیلی میں محفوظ کرلیتی ہے مکڑیوں کا سب سے زیادہ شکار پرندے ، چھپکلی ، سانپ اور بچھو وغیرہ کرتے ہیں۔

کچھ کیڑے مکوڑے بھی مکڑیوں کا شکار کرتے ہیں ، جن میں منٹس اور ایک تتییا بھی شامل ہے جو مکڑیوں کو پکڑنے اور مفلوج کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ تندور مکڑی کو زندہ دفن کردیتا ہے۔تاکہ جب وہ کھائیں تو وہ تازہ کھانا کھا سکیں آسٹریلیائی ریڈ بیک جیسی مکڑی کھائے بغیر چھ ماہ تک زندہ رہ سکتی ہےایک اندازے کے مطابق اوسط بالغ انسان کا وزن مکڑی کے وزن سے اڑھائی لاکھ گنازیادہ ہوتا ہے مکڑیاں پنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی کیونکہ ان کی پلکیں نہیں ہوتی تاہم آرام کرنے کیلئے یہ اپنا میٹا بولزم کو کم کر دیتی ہیںٹارانٹولا نامی مکڑی ایک قسم ہے جسکی عمر پندرہ سال تک ہو سکتی ہےمکڑیوں کو دور رکھنے کیلئے ترش پھلوں کی خوشبو جیسے لیموں اور سنگترہ یا مرچ کا تیل استعمال کیا جاسکتا ہے اور حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ مکڑیوں کے جالوں کو گھر میں نہ بننے دو کیونکہ ان کی وجہ سے جو ہے گھر میں نہوست پیدا ہو تی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.