دنیا کے غم ختم ہوجائیں گے ۔یہ عمل کر لو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا من احب الناس بحسن السعادۃ سب سے زیادہ محبوب عمل ہے کون سے لوگ ہیں جن کے ساتھ میں نیکی کروں خیر خواہی کروں آپ نے فرمایا امک امک امک تین مرتبہ سوال کرتے گئے صحابی اللہ کے رسول بتاتے گئے اور چوتھی مرتبہ والد کا تذکر ہ کیا صحیح مسلم کی روایت ہے ایک نوجوان آتا ہے کہتا ہے یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے پاس آیا ہوں ہجرت اور جہاد کرنا چاہتا ہوں پر آپ سے اجازت لینے آیا ہوں اجازت دیں گے اور میرا مقصد کیا ہے ابتغی الاجر من اللہ میں صرف اللہ سے اجر لینا چاہتا ہوں ہجرت اور جہاد ہجرت کے بارے میں حدیث ہے علیک بالہجرہ فانہ لا مثل لہا ہجرت کرو اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے جہاد کے بارے میں فرمایا یہ جنت کے دروازوں میں سے دروازہ ہے دنیا کے ہم اور غم ختم ہوجائیں گے جب اس کو لازمی پکڑ لوگے لیکن جہاد فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں کافروں کے ساتھ حکمران وقت کے ساتھ مل کر مرضی سے نہیں مسلمانوں کے خلاف نہیں

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جب سوال سنا فرمایا ھل من والدیک احد حی والدین میں سے دنوں میں سے کوئی زندہ ہے ؟ قال بل کلا ھما دونوں ہی اللہ کی رحمت سے زندہ ہیں قالت تبتغی الاجر من اللہ تم اللہ سے اجر کی امید چاہتے ہو قال نعم اجر کے لئے ہی تو آیا ہو قال ارجع الیہما فاحسن صحبتہما جاؤ پلٹ جاؤ اپنے والدین کی خدمت کرو تمہیں یہ اجر مل جائے گا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا رضی اللہ تعالیٰ عنہ الرب فی رضی الوالدین وسخط فی سخطھما جس نے رب کو راضی کرنا ہے والدین کو راضی کرلے جس نے رب کو ناراض کرنا ہے والدین کو ناراض کرلو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے ہیں جن میں سے اُس نے ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا۔ ساری مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے

یہ اُسی ایک حصے کی وجہ سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کے اُوپر سے اپنا پاؤں اُٹھاتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے وہ بھی اسی ایک حصے کے باعث ہے۔ اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.