خون کی کمی پوری کرنے کا سب سے آسان نسخہ

تھوڑی سی کشمش لیں اور اسے ہمارے بتائے طریقے سے استعمال کرلیں اور پھر گالوں کی لالی چیک کریں۔

کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور خشک کرکے بنائی جاتی ہے اور اس کی رنگت گولڈن ، سبزیا سیاہ ہو سکتی ہے۔ یہ مزیدار میوہ عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس کا

روز استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹاٹارک ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ کا استعمال کرنے والے افراد کا نظام ہاضمہ دوگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے ، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے ، کشمش کو آسانی سے دلیہ ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کویہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔کشمش میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس وائرل اور بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخارکے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔. کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشیم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں ، معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض ، جوڑوں کے امراض ، بالوں کے گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔کشمش میں موجود اجزائ: آنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری ، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹاکیروٹین ، وٹامن اے اور کیروٹین بھی

بینائی کو بہتر بنانے میں مدددیتے ہیں۔کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے ، کشمش کا استعمال وٹامنز ، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدددیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدددیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔آئرن، پوٹاشیم ، بی وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدددیتے ہیں ، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہے اور بلڈپریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے۔ اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈپریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔میوے میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائد ہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدددیتا ہے۔ گردوں کی پتھری کا خطرہ کم کرے : پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔بیشتر افراد ناشتے میں انڈے کھانا پسند کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں رات کے وقت یا کافی عرصے پہلے ہی خرید لیا جاتا

ہے، مگر پھر انہیں رکھا کہاں جاتا ہے؟ تو اس کا جواب تو یقیناً بیشتر افراد یہی دیں گے کہ فریج میں، لیکن پھر سوال ہے کہ فریج میں کس جگہ انڈوں کو رکھنا چاہئے ؟ کیونکہ غلط جگہ رکھنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ انتباہ ایک امریکی طبی تحقیق میں سامنے میں آیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ انڈوں کو کبھی بھی فریج میں اس پلاسٹک ریک میں نہ رکھیں جو کہ انڈے رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ انڈوں کو فریج میں رکھنا ٹھیک ہے مگر اس کے دروازے میں بنے ریک پر کبھی بھی نہیں رکھیں۔ تحقیق کے مطابق انڈوں کو فریج کے دروازے میں بنے اس ریک میں رکھنا اسے درجہ حرارت میں کمی بیشی کی زد میں لا سکتا ہے کیونکہ دن بھر اس مشین کا دروازہ کھلتا اور بند ہوتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انڈے تیزی سے خراب ہونے لگتے ہیں۔ تو انڈوں کو رکھنے کے لیے فریج کے شیلف کو ہی استعمال کریں یا اندرونی خانے میں رکھیں تاکہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہوسکیں۔ ویسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انڈے ہمیشہ دھو کر پکانے چاہئے اور جہاں بھی انہیں رکھیں کسی تھیلے میں رکھیں تاکہ وہ جگہ جراثیم سے آلودہ نہ ہوسکے۔ اسی طرح انہیں پکانے کے بعد ہاتھ ضرور

دھوئیں۔مسئلہ بڑی عمر کے لوگوں کو خاص طور پر متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں نیند کی خرابی زندگی کے معمولات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔300 رضاکاروں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نمک کم کر دینے سے باتھ روم کے چکر کم ہو جاتے ہیں۔ناگاساکی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ان مریضوں کا تین ماہ تک مشاہدہ کیا جنھیں بے خوابی کی شکایت تھی اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ کھانے میں نمک کی مقدار گھٹا دیں۔اس طرح ان کے راتوں کو باتھ روم کے چکر دو گنا سے بھی کم ہو گئے۔رضاکاروں نے کہا کہ اس سے ان کی زندگی کا معیار بہتر ہو گیا ہے۔دوسری طرف 98 رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ نمک کا استعمال بڑھا دیں۔ نتیجتاً وہ زیادہ بار باتھ روم جانے لگے اور ان کی نیندیں متاثر ہونے لگیں۔تحقیق کے مصنف ڈاکٹر ماتسوو توماشیرو نے کہا ہے کہ اس طرح کے بڑے مطالعہ جات کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ معمر لوگوں میں ان نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔یونیورسٹی آف برسٹل کے ڈاکٹر مارکس ڈریک کہتے ہیں کہ عام طور پر نمک کی مقدار کو رات کو باتھ روم جانے کا باعث نہیں سمجھا جاتا، بلکہ زیادہ توجہ پانی کی مقدار پر مرکوز کی جاتی ہے۔انھوں نے کہا: ‘اب ہمارے پاس ایک کارآمد تحقیق آ گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اس مرض کی علامات کو دور کرنے کے لیے دوسری چیزوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *