انتہائی مختصر مگر بے حد طاقتور یَارَبَّنَا رات سوتے وقت 7 بار پڑھنے پر کیا کچھ ملتا ہے ؟ قیمتی تحفہ لے لیں

رَبَّنَا کے معنی ہیں اےہمارے رب اور یاد رہے کہ قرآن پاک میں یہ لفظ بڑی کثرت کے ساتھ آیا اور یہ لفظ اکثر دعاؤ کا حصہ بھی ہے یعنی بے شمار دعائیں ایسی ہیں جو کہ ربنا سے شروع ہوتی ہیں اس لفظ میں اپنے رب کے ساتھ ایک عجیب محبت کا احساس محسوس ہوتا ہے جتنا زیادہ بندہ اس لفظ ربنا ربنا ربنا

کو پڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ اس کے دل میں اللہ کے لئے محبت کا احساس بڑھتا جاتا ہے اس تحریر میں لفظ ربنا کے فضائل و برکات ذکر کی جارہیں کہ اس لفظ کے وظیفے سے کیسے آپ اللہ کی ذات سے اپنی بات منوا سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ رب کے معنی ہیں پرورش کرنے والا پالنے والا مالک سردار آقا وغیرہ وغیرہ اور لفظ رب اسم صفت ہے اور ایک مشہور لغت میں رب کے معنی یوں کئے گئے ہیں جس کے پاس اختیار ہو یا جو مالک ہو یہ لفظ سورہ فاتحہ میں ذات باری تعالیٰ کی پہلی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کے معنی مربی اور مالک کے ہیں جیسا کہ پہلی آیت ہے الحمد للہ رب العالمین یعنی تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے جو عالمین کا رب ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کو قرآن مجید میں کم و بیش نو سو اڑسٹھ مرتبہ شان ربوبیت کے ذریعے بصراحت متعارف کروایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یہ شان مخلوقاتِ عالم کے ہر وجود کو اپنے فیض سے نواز رہی ہے اگر بظا ہر دیکھا جائے تو فیض یاب تو کئی صورتوں میں لوگ ایک دوسرے سے بھی ہوتے رہتے ہیں مثلا کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے کوئی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے کوئی محتاج کی مالی اعانت کرتا ہے کوئی کمزور کا سہارا بنتا ہے یہ ساری نفع بخشیاں اور فیض رسائیاں ایک دوسرے کی امدد و اعانت کی مختلف صورتیں اور احسان و انعام کی مختلف شکلیں ضروری ہیں مگر ربوبیت کے عنوان میں نہیں آسکتیں کیونکہ ربوبیت سے مراد کسی کی پرورش کرنا اور پالنا ہے اور پالنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے بظاہر جو بھی نقشے ہوں لیکن اصل پالنے والی ذات اللہ ہی کی ہے بظاہر اگر کوئی کسی کو پال

رہا ہے یا کسی کی پرورش کررہا ہے تو وہ اللہ کی مرضی اور اختیار سے کررہا ہے اور پہلے ہی واضح فرمادیا کہ ناصرف اس دنیا کا بلکہ تمام عالمین کا رب اللہ ہے ۔ یادرہے جب بندہ اللہ کو اس پیارے کلمے سے پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات فورا لبیک کہتی ہے کہ بول میرے بندے تجھے کیا چاہئے یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت اپنے بندے کے انتظار میں ہوتا ہے کہ کس وقت میرا بندہ مجھے پکارے گا وہ قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص اپنے بت کو صنم صنم کہہ کر پکار رہا تھا اس کی زبان پر صنم صنم چل رہا تھا وہ کافی دیر سے اسی لفظ کو دہرا رہا تھا کہ اچانک اس کی زبان پھسلی اور اس کی زبان سے نکلا صمد تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نے فورا اس کے جواب میں بھی فرمایا لبیک یا عبدی میں حاضر ہو میرے بندے مانگ جومانگتا ہے تو اسی لئے فرمایا کہ یہ کلمات ربنا ربنا ربنا ربنا بہت ہی خاص اور پیارے کلمات ہیں جب بندہ ان کلمات سے اپنے رب کو پکارتا ہے تو اس کا رب اس کی ضرور سنتا ہے جس نے بھی اس کلمے کو اختیار کیا ہے اس نے وہ سب کچھ پایا ہے جو اس نے اپنے رب سے مانگا ہے ۔اس کا وظیفہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے یعنی عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر گیارہ گیارہ بار درود شریف کے ساتھ سات مرتبہ اس کو پڑھ کر دعا کی جائے تو اللہ ہر طرح کی حاجات کوپورا فرماتا ہے ہر طرح کے مسائل سے اس کو نکال دیتا ہے اور رزق میں وسعت عطا فرماتا ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.