حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک یہو دی عالمِ دین تھا

حضرت انس بن ما لک روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک یہودی عالمِ دین تھا۔ اس کا نام تھا جلیبیب ، اس کا ایک لڑ کا ہبہاب نامی حُسن و جما ل میں یکتا تھا۔ بڑا خلیق ( یعنی خوش اِخلاق ) اور کمال سیرت۔ اتفاقاً اس نے اپنےو الد کے خزانے میں ایک ڈبیہ دیکھی جو سرخ مو تیوں سے بنی ہوئی تھی اور اس پر مشک کی مہر لگی ہوئی تھی۔ تا کہ کوئی شخص اسے کھو ل سکے نہ اندر دیکھ سکے۔ لڑ کے نے اس ڈبیہ کو دیکھا تو بڑا غضب ناک اور خوشمگیں ہو کر با ہر نکلا۔ باپ نے وجہ پو چھی تو کہنے لگا: ایک عرصہ ہو گیا ہے آپ نے ایک چیز مجھ سے پو شیدہ نہیں رکھی مگر یہ ڈبیہ ہمیشہ بند رکھی ہے۔ حالا نکہ میرے ساتھ آپ کی شفقت و محبت بہت زیادہ ہے۔ باپ نے بتایا: بیٹا ! اس میں جواہرات میں نہ خزانہ، اس میں چند اوراق ہیں جن پر ایک عربی کا نام لکھا ہوا ہے جب تم علماء کی مجا لس میں بیٹھ کر فاضل ہو جاؤ گے اور ہر بات سمجھنے لگو گے تو اس کا مطا لعہ بھی کر لینا۔ چو نکہ ابھی تم نا پختہ ذہن ہو اس لیے ڈبیہ کا رازِ دِیدہ دانستہ پو شیدہ رکھا گیا تھا۔ ایک دن جلبیب بادہ نوشی میں مشغول تھا۔ ہبہاب یہ موقعہ غنیمت جانتے ہوئے والد کے خزانہ میں گیا اور اس ڈبیہ کے کھو لنے میں مشغول ہو گیا۔ جس کے لیے رازداری سے کام لیا جا رہا تھا۔

مہر توڑ دی گئی ڈبیہ کا ڈھکنا کھو لا ہی تھا کہ نور کی ایک شعاع نمو دار ہوئی جس کے سامنے چراغ کی روشنی ماند پڑ گئی۔ ڈبیہ کے اندر دو سفید ورق دکھائی دیے۔ جن پر لا الہ الا اللہ محؐد رسول اللہ لکھا تھا۔ اس کلمہ طیبہ کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کے اوصافِ حمیدہ لکھے ہوئے تھے کہ: آپ ﷺ کے ابر و پیو ستہ ( یعنی بھنو یں ایک دوسرے سے ملی ہوئی) ہوں گے۔ داڑھی ( مبارک ) گھنی ہوگی۔ جسے بھی اس کا زمانہ میسر ہو اس کی بات سنے اس کا کلام قرآن ہوگا۔ اس کا دین اسلام ہو گا۔ وہ انسانوں کو خدا کی عبادت کی دعوت دے گا۔ مخالفین سے نہیں ڈرے گا۔ ہبہاب کی نگا ہیں اس کاغذ پر پڑ یں تو حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اس کے دل میں اتر گئی۔ اس کاغذ کو آ نکھوں پر ملا چو ما اور کہنے لگا کہ یا محؐد ﷺ کا ش میں معلوم کر سکتا ہے آپ خاکی ہیں یا نوری، آ سمانوں پر ہیں یا زمین پر دریاؤں میں رہتے ہیں یا جنگلوں میں؟ اس نے اپنی محرومی اور سو گواری کا اس انداز سے اظہار کیا کہ بے ہوش ہو گیا۔ چند لمحوں بعد اس کی والدہ بھی اس کے کمرے میں آ ئی ، بیٹے کو بے ہوش پا کر حیران رہ گئی۔ اس کے باپ کو بلا یا ۔ بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے چہرے سے چہرہ ملنے لگا۔ مالتھے کو چومنے لگا رو رو کر اپنے بیٹے کی بے ہوشی پر حسرت و غم کا اظہار کر نے لگا۔ جب نوجوران لڑ کا ہوش میں آ یا والدین کو اپنے سر ہا نے غم زدہ اور پریشان پا یا۔ مگر غصے میں آ کر کہنے لگا: اے والد محترم ! تم میری آ نکھوں کی روشنی نہیں دیکھتے اور بڑ ھا پے کے باوجود اس رحمت الٰہی سے محفوظ نہیں ہو ئے۔آپ مجھے کفر کی تعلیم دے رہے ہیں اور شریعت محؐد یہ ( ﷺ ) اور اس کی اتبا ع سے محروم رکھنے کی کوشش کر تے ہو۔ باپ یہ باتیں سنتے ہی غصے میں پاگل ہو گیا۔ لڑ کے کو بالوں سے پکڑا اور زمین پر دے مارا اور زور زور سے مارنے لگا۔

جب اس کا ظلم حد سے بڑ ھ گیا تو حی بن اخطب ، کعب بن اشرف اور ابو لبا بہ وغیرہ اس کی سفارش کے لیے آ ئے۔ انہوں نے دیکھا کہ باپ بیٹے کو ایذا دینے کو پا گل ہو جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے زبردستی منع کیا۔ مگر وہ کسی صور بچے کوسزا دینے سے نہ رکتا تھا۔ لوگوں نے اسے سے بچے کا قصور پوچھا تو کہنے لگا: اس کا قصور تو سزائے قتل کے لائق ہے۔ جب تک میں اسے قتل نہ کر دوں کا ہاتھ نہ روکوں گا۔ پھر اس نے بتا یا: یہ دینِ محمد ( ﷺ ) پر ایمان لے آ یا ہے۔ اپنے آ باؤ اجداد کا مذہب ترک کر چکا ہے۔ ان لوگوں نے اس بچے کو نصیحت کر نا شروع کی اور کہا: بیٹا تمام لوگ تو ہم سے دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، لوگ ہماری اتباع کرتے ہیں لیکن تم محمد ﷺ کی اتباع میں لگے ہوئے ہو، اسے چھوڑ دو اور اپنے سابقہ دینِ پر قائم رہو۔ ہبہا ب کہنے لگا: میں نے سوچ بچار کر نے کے بعد ان وہمی اور فر سودہ دینوں کو ترک کر دیا ہے اور محمد ﷺ کے صراطِ مستقیم کو اختیار کر لیا ہے ان پر ایمان لا یا ہوں۔ ان لوگوں نےا ن نوجوان کو بڑی الٹی سیدھی نصیحتیں کیں مگر وہ اپنے نیک ارادے پر ڈٹا رہا۔ ان یہودی مشائخ نے کہا: چو نکہ یہ لڑ کا نازو نعم کا پلا ہوا ہے زندگی کے مصائب اورتکا لیف کا احساس نہیں رکھتا ، اسے اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نصیحت کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ اب ضروری ہے کہ آ سان زندگی سے ہٹا کر محنت و مشقت کی زندگی کا خوگر بنا دیا جائے۔ تا کہ ان سختیوں سے تنگ آ کر دینِ محمدی (ﷺ) سے تو بہ کر لے اور پھر اسی راحت و آرام والی زندگی کو حاصل کر نے کے لیے دینِ سابقہ پر واپس آ جائے۔ جلبیب نے کہا: تمہارے نزدیک اس تکلیف اور ریاضت کا کون سا طریقہ اختیار کر نا چاہیے؟ کہنے لگے: یہ نرم و نازک کپڑے اتار کر ٹاٹ پہنا دو، ایک تہہ خانہ میں محبوس کر دو، دروازے کو بند کر دو، تین دِن کے بعد ایک جو کی روٹی اور پانی کا کوزہ دیا جائے تا کہ نازو نعمت یا دآ ئے تو فر یاد کر ے کہ مجھے اس مصیبت سے نجات دلائی جائے۔ جلبیب نے ان لوگوں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اس مظلوم کو ایک کمرے میں بند کر دیا ۔ چو نکہ اسے سوکھی روٹی اور پانی کی عادت نہ تھی۔ سخت تنگ ہوا۔

وہ اس سختی سے روتا رہتا۔ ایک دن باپ نے دیکھا تو کہا: کیا تم اپنے دین پر قائم ہو یا نہیں اور دینِ محمد ﷺ سے باز آ ئے ہو یا نہیں؟ بیٹے نے کہا: باپ ! میرا رو نا طعام کی کمی اور پانی کی بے لفطی کی وجہ سے نہیں بلکہ مجھے تو دیدار مصطفی ﷺ کا اشتیاق ہے۔ باپ نے پھر کہا : جب تک دینِ مصطفیٰ ﷺ سے توبہ نہ کرو گے تمہیں اس عذاب سے نجات نہیں ملے گی۔ لڑ کے نے کہا: خدا کی قسم! محمدﷺ کی محبت جس طرح میرے دل میں جا گزیں ہے اس سے توبہ نہیں کی جا سکتی۔ جب سختی اور شدت حد سے گزر گئی تو سرکاِ دو عالم ﷺ کی شفاعت سے اللہ سے تین چیزوں کی التجا کی ۔ اے اللہ تو عبادت کے لائق ہے حضرت محمد ﷺ کے طفیل میرے طعام کو خوش گوار پانی کو شیر یں اور سپا ہیوں کو نورانی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی التجا کو قبول فر ما لیا۔ وہ ایک عرصہ تک قید و بند میں صعو بتیں جھیلتا رہا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی یہ خبر شہر میں عام ہو گئی کہ نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لے آ ئے ہیں ۔ جلبیب نے اپنے غلاموں اور خادموں کو بلا یا اور کہا: اگر تم لوگ میری مرضی کے مطا بق ایک کام کر لو تو میں تم کو آ زادی دے دوں گا۔ سب نے وعدہ کیا ۔ وہ کہنے لگا: ہبہاب میرا لڑ کا۔ اس کو تہہ خانے سے نکال کر دور کیسی جنگل میں لے جاؤ۔ وہاں سخٹ مشقت کر اؤ اس کے گلے میں رسی ڈال کر کھینچو۔ چنانچہ اس کو با ندھ کر غلاموں کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ اس سے چو پانی کرواتے، بکر یاں چرواتے، ان کی حفاظت کرو اتے۔ تپتے ہوئے صحرا میں اسے گھسیٹتے پھر تے اور سخت کاموں میں لگائے رکھتے۔ کہتے ہیں ایک رات سخت اندھیری تھی بادل چھائے ہوئے تھے۔ بجلی چمک رہی تھی۔ بادل گرج رہے تھے نوجوان کے دل میں اشتیاق محمد ﷺ موجزن ہوا۔

اور اس کے سینے میں آتشِ عشق پھڑک ( بھڑک ) اٹھی۔ دیدارِ مصطفی ﷺ کی آ رزو سے اس کا سینہ منور ہو گیا۔ بارگاہ الٰہی میں سر نیاز خم کرتے ہوئے کہنے لگا: اے میرے اللہ تو آسمانوں سے بارش بر ساتا ہے اس سے زمین کو زندہ کر تا ہے۔ اپنے بندوں کو سیراب کرتا ہے۔ اے اللہ میرا شوق محبت دیدارِ مصطفیٰ ﷺ میں بے حڈ و حساب ہو گیا ہے میں نے بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں اے اللہ ! اب مجھ پر رحمت فر ما اور میری جان پر احسان فر ما ، میری آ نکھوں کو دیداِ رسول ﷺ سے منور فر ما۔ کہتے ہیں جو نہی یہ دعا پر آ ئی اس کی گردن سے وہ رسی ٹوٹ کر گی پڑی اس کے پاؤں سے زنجیریں ٹوٹ پڑ یں اور مدینہ پاک کی طر ف چل پڑا۔ کہتے ہیں اس مقام سے مدینہ پاک اسی میل کے فاصلے پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عاشقِ رسول ﷺ کے لیے اس زمین کو سمیٹ دیا او ر فاصلہ بہت کم ہو گیا۔ صبح ہوتے ہی وہ ہبہاب مدینہ پاک میں حضرت عمار بن واثلہ انصاری کے گھر دروازہ پر پہنچ گیا اور تھکا ماندہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ حضرت عما ر نے اس سے حال دل پو چھا تو کہا: مراغمی است کہ پیدا نمی تو انم کرد حکایت دل شیدا نمی تو انم کر د حضرت عما ر نے کہا: اے نوجوان: تجھے دیدارِ محمدﷺ کی قسم ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *