دل کو چھونے والی ایک دلچسپ کہانی!!

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کسان کے گھر کے باہر 3 پردیسی بُوڑھے مرد آرام کی غرض سے بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے، کسان کی بیوی نے 3 پردیسی افراد کو دیکھا تو اُس کے دل میں آیا کہ یہ تینوں لمبے سفر سے آئے لگتے ہیں اور بھوکے ہوں گے چنانچہ وہ انہیں کھانے کی دعوت دینے گئی۔

کسان کی بیوی نے تینوں کو کھانے کی دعوت دی تو ایک بُوڑھا بولا ” کیا آپ کے گھر میں آپکا شوہر یا رشتہ دار کوئی اور مرد موجود ہے؟” کسان کی بیوی بولی ” میرا شوہر کھیتوں میں ہل چلانے گیا ہے اور وہ شام کو واپس لوٹے گا”، بُوڑھے نے عورت کی بات سُن کر جواب دیا ” پھر ہم آپکے گھر کھانا کھانے نہیں آ سکتے کیونکہ ہم صرف اُسی گھر میں کھانا کھانے جاتے ہیں جہاں کوئی مرد موجود ہو”۔

بُوڑھے کے جواب پر کسان کی بیوی واپس گھر لوٹ آئی اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو گئی، شام کا کسان کھیتوں سے واپس لوٹا تو اُس نے تینوں بُوڑھوں کو گھر کے قریب بیٹھا پایا تو اپنی بیوی سے پُوچھا ” یہ تینوں پردیسی مہمان لگتے ہیں کیا تُم نے ان سے کھانے کا پُوچھا”۔

بیوی بولی “میں ان سے پُوچھنے گئی تھی مگر یہ تینوں کسی ایسے گھر میں کھانا نہیں کھاتے جہاں کوئی مرد موجود نہ ہو”، یہ سُن کر کسان بولا “تم ان کو دوبارہ دعوت دو اور بتاؤ کے میرا شوہر واپس لوٹ آیا ہے”۔

کسان کی بیوی دوبارہ تینوں کے پاس گئی اور بولی کہ گھر میں میرا شوہر لوٹ آیا ہے اب آپ تشریف لے آئیں اور کھانے پر ہمارے مہمان بنیں اس سے ہمیں بہت خُوشی ہوگی، کسان کی بیوی کی بات سُن کر بُوڑھا بولا ” ہم تینوں اکھٹے تمہارے گھر کھانا کھانے نہیں آ سکتے تمہیں چاہیے ہم تینوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ لیجاؤ اور کھانا کھلا دو”۔

کسان کی بیوی بُوڑھے کے عجیب جواب کو سُن کر بولی ” آپ تینوں اکھٹے تشریف کیوں نہیں لاتے”، اس بات پر بوڑھے نے جواب دیا ہم تینوں میں سے کوئی ایک جہاں موجود ہو باقی دونوں وہاں سے چلے جاتے ہیں پھر اپنے ایک ساتھ کی طرف اشارہ کیا اور بولا یہ دولت ہے اور یہ جس گھر میں جاتا ہے وہاں کے افراد کو دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے، پھر دوسرے ساتھ کی طرف اشارہ کر کے بولا یہ یہ فتح ہے اور یہ جس گھر میں جائے اُس گھر کے افراد ہر میدان میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پھر بولا میں محبت ہُوں میں جہاں چلا جاؤں وہاں کے مکینوں کے دل محبت سے لبریز ہوجاتے ہیں اس لیے تُم گھر جاؤ اور مشورہ کرو کے تمہیں ہم میں سے کس کی ضرورت ہے۔

کسان کی بیوی گھر لوٹی اور کسان کو بُوڑھوں کے جواب سے آگاہ کیا اور بولی ہمیں چاہیے کہ ہم دولت کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کریں تاکہ ہماری پیسے کی مشکلات حل ہو جائیں، یہ سُن کر کسان بولا ہمیں پیسے سے زیادہ کامیابی کی ضرورت ہے اسے لیے ہمیں فتح کو اپنے گھر بُلانا چاہیے، کسان کی بیٹی جو قریب بیٹھی دونوں کی گفتگو سُن رہی تھی بولی” اگر ہم محبت کو اپنے گھر بُلائیں تو وہ ہمارے دلوں میں اتنا اطمینان بھر دے گا کہ ہم دولت اور کامیابی کی پروا نہیں رہے گی” دونوں میاں بیوی بیٹی کی بات سے متفق ہو گئے اور کسان کی بیوی کو بھیجا کے محبت کو بُلا لاؤ۔

بیوی گئی اور بُوڑھوں سے کہا آپ میں سے محبت میرے ساتھ تشریف لے آئے تاکہ ہم اُس کی مہمان نوازی کر سکیں، یہ سُن کرخطاب کرنے والا بُوڑھا اُٹھا اور کسان کی بیوی کے ساتھ چل پڑا، جب وہ کسان کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو کسان کی بیوی نے دیکھا کے باقی 2 بُوڑھے بھی پیچھے ہی چلے آرہے ہیں۔

کسان کی بیوی نے پُوچھا آپ تینوں تو اکھٹے نہیں جاتے اب کیا ہُوا کے آپ تینوں اکھٹے آگئے، آنے والے بُوڑھوں نے جواب دیا فقط محبت ہم میں سے ایک ایسا فرد ہے جسکے بارے میں ہمیں حُکم ہے کہ جہاں مُحبت تنہا جائے وہاں اُس کے پیچھے پیچھے چلے جاؤ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *