جمعۃ المبارک 1خاص عمل پیسوں کی بارش اللہ ان لوگوں کو کروڑپتی بنا دیتا ہے جو یہ عمل کرتے ہیں۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا صبر تین قسم کا ہوتا ہے مصیبت پر صبر نیک کام پر صبر اللہ پاک کی نافرمانی سے صبر پس جس نے مصیبت پر صبر کیا اللہ پاک اس کے لئے تین سو درجات لکھے گا اور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان کی مسافت ہے اور جس نے نیکیوں پر صبر کیا اللہ پاک اس کے لئے

سات سو درجات لکھے گا اور ہر درجہ کے درمیان ساتویں زمین سے لے کر عرش کی انتہاء تک کا فیصلہ ہے اور جس نے گناہ سے صبر کیا اللہ پاک اس کے لئے نو سو درجات لکھے گا اور ہر درجے کے درمیان ساتویں زمین سے لے کر منتہائے عرش کا دوگنا فاصلہ ہے صحابی ابن صحابی جنتی ابن جنتی حضرت سیدناعبداللہ بن عمر ؓ کاایک بیٹا بیمار ہو گیا تو آپ کو اس قدر غم ہوا کہ بعض لوگ یہ کہنے لگے ہمیں اندیشہ ہے .کہ اس لڑکے کے سبب ان کے ساتھ کوئی معاملہ نہ بن جائے پھر وہ لڑکافوت ہوگیا جب حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ اس کے جنازے کے ساتھ جارہے تھے تو بڑے خوش تھے آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا میرا غم صرف اس پر شفقت کی وجہ سے تھا اور جب اللہ پاک کا حکم آگیا تو ہم اس پر راضی ہوگئے تو یہ بتانے کا مقصد صرف ان لوگوں کو یہ ہے کہ جب کبھی اللہ پاک آپ کو بھوک میں مبتلا کردے اللہ پاک رزق کا معاملہ تنگ فرمادے رزق میں رکاوٹ آجائے تو ہمیشہ صبر سے کام لیجئے جیسا کہ امام غزالی ؒ اپنی مبارک زندگی کی سب سے آخری کتاب منہاج العابدین میں فرماتے ہیں اللہ پاک کی عبادت سے روکنے میں مخلوق کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ رزق ہے لوگوں نے ان کے لئے اپنی

جانوں کو تھکا دیا اس کی فکر میں دل اس قدر پڑ گئے کہ اپنی عمریں ضائع کردیں اور اس کی وجہ سے بڑے بڑے گناہوں سے بھی باز نہ آئے رزق کی فکر میں مخلوق کو اللہ پاک اور اس کی عبادت سے دور کر کے دنیا و مخلوق کی خدمت میں لگادیا تو رزق ضرور مانگئے لیکن رزق میں اس قدر نہ پڑ جائیں کہ اللہ کی عبادت کو ہی بھول جائیں جمعۃ المبارک کا پیارا مبارک دن آ چکاہے اور جمعۃ المبارک کے دن اللہ پاک کارزق حاصل کرنے کے لئے اللہ پاک سے مانگنے کی گھڑیاں بھی آ چکی ہیں سب سے پہلے آپ نے کثرت کے ساتھ درود پاک پڑھنا ہے ۔یہ ایک ایسا خاص عمل ہے بہت ہی آسان سا وظیفہ ہے صرف ایک قرآن پاک کی سورت کا وظیفہ ہے وہ سورت قرآن پاک کے تیسویں پارے میں موجود ہے ادھر آپ نے یہ عمل کرنا ہے اور اللہ پاک کی رحمت اس قدر جوش میں آجائے گی کہ اس سورت کے صدقے میں اللہ پاک آپ کو بے شمار رزق عطافرمادے گا وظیفہ یہ ہے کہ قرآن پاک کے تیسویں پارے میں جو سورت جو جگمگارہی ہے جو اللہ پاک نے سب سے

پہلے نازل فرمائی نازل سب سے پہلے فرمائی لیکن ترتیب کے اعتبار سے وہ سورت قرآن پاک کے تیسویں پارے میں موجود ہے وہ سورت کونسی ہے آپ سب جانتے ہیں ہوں گی اس سورت کا نام ہے سورۃ العلق جو کہ شروع ہوتی ہے اقراء باسم ربک الذی خلق یہاں سے شروع ہوتی ہے بہت ہی آسان سی چھوٹی سی سورت ہے آپ نے اس سورت کو پڑھنا ہے ضرور پڑھنا ہے اور جب آپ پڑھیں تو اپنے دل میں اس چیز کو امادہ کرلیں اپنے دل کو کہ یہ وظیفہ میرا ضرور کام آئے گا۔ آپ نے کرنا کچھ اس طرح سے ہے کہ جمعۃ المبارک کے دن کسی بھی وقت آپ نے آسمان کے نیچے کھڑے ہوجانا ہے مکمل باوضو حالت میں سر کو ڈھانپ کر اور پاؤں سے جوتا وغیرہ اتار لیجئے صرف جوتا اتارنا ہے جرابیں وغیرہ نہیں اتارنی آپ نے کھڑے ہو کر تین بار درود پاک ایک بار سورہ علق پڑھنی ہے سورہ علق پڑھنے کے بعد آپ نے پھر سے تین بار درود پاک اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر اپنے رزق کے لئے دعا مانگنی ہے یا باری تعالیٰ مجھے بے شمار رزق عطا فرما اور اپنی جناب سے عطافرما۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *