اچھا اور برا شوہر ؟ دوباتوں سے پتہ چلتا ہے کہ شوہر کیسا ہے؟

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص شریف ہوتا ہے وہ بیوی پرغالب ہونے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ بیوی کا خیال رکھتا ہے۔ اور اس کی ناز برداری کرتا ہے ، اور کو ذلیل اور کم حوصلہ ہوتا ہے وہ بیوی پر غالب رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ پیارے آقا محمدﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا معاملہ اپنی بیوی کےساتھ درست ہو، بیوی کو دبا کر رکھنا اس پر غالب رہنا کوئی کمال نہیں ۔ دوباتیں ایسی ہیں۔ جو اس بات کی وضاحت کردیتی ہیں ۔ کہ ایک اچھا اوربرا شوہر کون ہے؟ پہلا: بہترین ہے وہ شوہر، جو اپنی بیوی کے ساتھ نرمی ، خوش اخلاقی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے اور بدترین ہے وہ شو ہر جو بیوی کو اس کا حق بھی نہ دلوا سکے۔ دوسرا: جو اپنی بیوی کا اس طرح ہو کر رہے کہ کسی اجنبی اور غیر عورت پر نگا ہ نہ ڈالے ، بلکہ اپنے آپ کو بیوی کی امانت سمجھے ۔

ایک عورت امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کےپاس آئی اور کہا کہ میں نے اپنے شوہر سے زیادہ اچھا کوئی مرد نہیں دیکھا ، رات بھر نماز پڑھتا ہے اور دن بھر نفلی روزے رکھتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعریف کی اور دعائیں دیں۔ عورت شرما کر واپس جانےلگی تو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کعب نے کہا کہ دراصل اس عورت نے آپ تک اپنے خاوند کی شکایت پہنچائی ہے۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ اس کے شوہر سے اس کا حق دلائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بات کی تہہ تک پہنچتے ہوئے کعب سے ہی فیصلہ کرنے کو کہا تو انہوں نے کہا کہ اسکے شوہر کو اگر نفلی عبادت کا شوق ہے تو تین دن نفلی عبادت کےلیے رکھے۔ اور ایک دن اور رات اس پر اس کی بیوی کا حق ہوگا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس فیصلے پر بہت خوش ہوئے اور ان کو بصرہ کا قاضی مقرر فرمادیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہندہ رضی اللہ عنہا جو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی ماں تھی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ابوسفیان بڑا بخیل آدمی ہے۔ اگر میں اس کا کچھ روپیہ چپکے سے لے لیا کروں تو مجھ پر گناہ تو نہ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا تو اتنا دستور کے موافق لے سکتی ہے جو تجھ کو اور تیرے بیٹوں کو کافی ہو۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو۔ پھر اگر کچھ بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو ۔پھر اگر اپنے اہل و عیال سے کچھ بچے تو اپنے رشتہ داروں پر اور اگر رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھر ادھر اپنے سامنے، دائیں اور بائیں والوں پر خرچ کرو۔حضرت عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ساری کی ساری دنیا متاع (سازو سامان) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.