کوئی عورت آپ کو چھوڑ کر ایک بار پھر آپ کے پاس آئے تو اس کی تین وجوہات ہوتی ہیں

کتنے دکھ کی بات ہوتی ہے کہ ہم کسی پر اندھوں کی طرح اعتماد کریں اور و ہ ثابت کر دیں کہ ہم واقعی اندھے ہیں ۔وہ غلطی سب سے بڑی غلطی ہے جس کے غلط ہونے کا احساس تک نہ ہو۔کوئی شخص اپنی بند مٹھیوں میں دھول لے کر آتا ہے اور آپ کی آنکھوں میں دھول پھینک کر چلا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کی بند مٹھی میں دھول ہی ہو جس سے بچنے کے لئے آپ کو اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں۔جھکے ہوئے پودے کو ہی پھل لگتا ہے اکڑے ہوئ لوگوں کا کچھ نہیں بنتا۔خود کو نیک پاک سیرت ثابت کرنے کے لئے دوسروں کی خامیوں ،برائیوں کا چرچا ضروری نہیں ۔ جس بڑے بھائی نے ماں باپ کا سہارا بن کر محنت مزدوریاں کر کے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ضرورتیں اور خواہشیں پوری کی ہوں بڑے ہو کر ایسے بھائی کے سامنے اس کا شریک بن کر نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کا بازو بن کر کھڑے ہونا چاہئے۔اگر تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تو اس سے علیحدگی اختیار کرو کیونکہ وقت خود سکھا دے گا اسے قدر کرنا اور تمہیں صبر کرنا۔جب دنیا آپ کو گرانے اور جھکانے میں مصروف ہو تو آپ کے لئے بہترین پوزیشن سجدہ ہے جب کچھ کہہ نہ سکو تو رو لیا کرو بے شک وہ خاموشیاں بھی سنتا ہے

کیونکہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندے سے۔ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کو سب سمجھ آتا ہے بس کسی کے احساس سمجھ نہیں آتے۔میرے دل کے اطمینان کے لئے اتنا کافی ہے کہ جو بھی ہوتا ہے اللہ کی رضا سے ہوتا ہے بندوں کی رضاسے نہیں تو پھر مایوسی کس بات کی ۔ عورت وہی ہوتی ہے جو ہمارے گھر میں ہوتی ہے باقی عورتیں ہمارے لئے ایک گوشت کی دکان ہیں اور ہم اس گوشت کی دکان کے باہر کھڑے اس کتے کی طرح ہوتے ہیں۔جس کی ہوس نما نظر ہمیشہ اس گوشت کے ٹکڑے پر ٹکی رہتی ہے ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ ایک عورت کے پھٹے ہوئے کپڑے میں ہم غربت نہیں اس کا جسم دیکھتے ہیں ۔عقل کی کروڑوں دلیلیں اللہ سے ایک گناہ بھی معاف نہیں کراسکتیں لیکن ندامت کا ایک آنسو زندگی بھر کے گناہ معاف کراسکتا ہے۔گرگٹ ماحول دیکھ کر بدلتا ہے اور انسان موقع دیکھ کر ۔

دنیا کا بہترین تماشا انسان ہے جسے دیکھنے کے لئے ٹکٹ بھی نہیں خردنا پڑتا۔کبھی کسی کو بے کار مت سمجھو ۔یہ یاد رکھو کہ بند گھڑی بھی دن میں دو بار بالکل ٹھیک ٹائم بتاتی ہے۔جب زندگی قابل بھروسہ نہیں تو زندگی میں آنے والے لوگ کیسے قابل بھروسہ ہو سکتے ہیں۔انسان اتنا بے بس نہیں ہوتا جتنا وہ خود کو ظاہر کرتا ہے مجھے لگتا ہے ہمارے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے تو اس کے ہم ہی کہیں ناں کہیں ذمہ دار ہوتے ہیں مگر ہم کیا کرتے ہیں کہ اپنی ذیادتی کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کے پیش کرتے کہ اگلے بندے کو انسان ہونے کا مارجن بھی نہیں دیتے بہرحال اگر انسان اپنی خود ترسی سے ایک قدم آگے نکل آئے تو اسے ہر بات سمجھ آنے لگ جاتی ہے ،لیکن بات تو پہلے قدم کی ہے ۔ وقت آنے پر اپنا اصل رنگ دکھاتے ہیں لوگ اب رشتے نہیں اپنا گھر بچاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.