ایک کا لا شخص اپنی بیوی کو گھسیٹتے ہوئے حضرت عمر ؓ کے پاس لا یا اور کہا

ایک سیاہ فام شخص حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کی سیاہ فام بیوی بھی تھی اس نے کہا کہ میں بھی کالا ہوں اور میری بیوی بھی کالے رنگ کی ہے مگر بچہ سرخ رنگ کا پیدا ہوا ہے یہ میرا بچہ نہیں ہو سکتا کہ کسی اور کا بچہ ہے اس عورت نے اما نت میں خیانت کی ہے عورت رونے لگی اور کہا کہ میں نےبالکل خیانت نہیں کی یہ اسی کا بچہ ہے۔ شو ہر اپنی بیوی سے بہت بد کام ہو رہا تھا اور اس کے دل میں بیوی کے لیے نفرت آچکی تھی حضرت عمر بن خطاب سوچ میں پڑ گئے کہ اس معاملے کو کیسے حل کیا جا ئے حضرت عمر بن خطاب حضرت علی ؓ کی خدمت میں آئے تا کہ اس معاملے کا حل نکا لا جا سکے حضر ت علی نے میاں بیوی کی بات سنی اور پھر سیاہ فام شخص سے کہا کہ تم ایک وعدہ کر و کہ تجھ سے جو بات بھی پو چھوں گا تم سچ ہی بتاؤ گے۔

سیاہ فام شخص نے وعدہ کیا کہ میں سچ ہی بو لوں گااور جھوٹی بات اپنی زبان پر نہیں لا ؤں گا۔ اسعد ابنِ ابراہیم او دبیلی مالکی جو علما ئے اہلسنت سے ہیں وہ عمار ابن یا سر اور زید ابن ارقم سے روایت کر تے ہیں کہ امیر المو منین علی ابن ابی طالب ایک روز ایوانِ قضا میں تشریف فر ما تھے ہم سب آپ کی خدمت میں موجود تھے کہ نا گہاں ایک شوروغل کی آواز سنائی دی امیر المو منین نے عمار سے فر ما یا کہ با ہر جا کر اس فریادی کو حاضر کرو۔ عمار کہتے ہیں میں با ہر گیا اور ایک عورت کو دیکھا جو اونٹ پر بیٹھی فر یاد کر رہی تھی اور خدا سے کہہ رہی تھی اے فریاد رسِ بیکساں میں تجھ سے انصاف طلب ہوں اور تیرے دوست کو تجھ تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دے رہی ہوں۔ مجھے اس ذلتِ سے نجات دے اور تو ہی عزت بخشنے والا ہے۔

میں نے دیکھا کہ ایک کثیر جماعت اُونٹ کے گرد شمشیر ب رہنہ جمع ہے کچھ لوگ اس کی موافقت اور حما یت میں اور کچھ اس کی مخالفت میں گفتگو کر رہے ہیں میں نے اُن سے کہا امیرا لمو منین علی ابن ابی طالب کا حکم ہے کہ تم لوگ ایوان قضا میں چلو۔ جو کچھ تیرا باپ کہتا ہےکیا یہ سچ ہے؟ لڑکی روئی اور چلائی یا حضرت پروردگار کی قسم میں اپنے باپ کی بے عزتی کا باعث نہیں ہوئی ہوں بوڑھا باپ آگے بڑھااور بو لا یہ لڑکی غلط کہتی ہے یہ بے شو ہر قانونی کے حاملہ ہے امیرا لمو منین لڑکی کی طرف متوجہ ہو ئے اور فر ما یا کہ کیا تو حاملہ نہیں ہے اور کیا تیرا باپ جھوٹ بول رہا ہے آقا یہ سچ ہے کہ میں شوہر نہیں رکھتی لیکن آپ کے حق کی قسم میں کسی خیانت کی مر تکب نہیں ہو ئی ہوں پھر امیر المو منین نے کوفہ کی ایک مشہور دایہ کو بلوایا اور کہا کہ اس کو پسِ پردہ لے جا کر جائزہ لو تم میں سے کوئی شخص ایک برف کا ٹکڑا کہیں سے لا سکتا ہے

لڑکی کے باپ نے کہا کہ ہمارے شہر میں اس زمانہ میں بھی برف بکثرت ملتا ہے مگر اس قدر جلد وہاں سے نہیں آسکتا۔ امیر المو منین نے بہ طریقِ اعجاز ہاتھ بڑ ھا یا اور قطعہ برف ہاتھ میں تھا دایہ سے فر ما یا کہ لڑکی کو مسجد سے باہر لے جا ؤ اور ظرف میں برف رکھ کر لڑکی کوب رہنہ اس پر بٹھا دو اور جو کچھ خارج ہو مطلع کر و دایہ لڑکی کو تنہائی میں لے گئی برف پر بٹھا یا تھوڑی دیر میں ایک س ا ن پ خارج ہوا دایہ نے لے جا کر امیر المو منین کو دکھلا یا لوگوں نے جب دیکھا تو بہت حیران ہوئے۔ پھر امیر المو منین نے لڑکی کے باپ سے فر ما یا کہ تیری لڑکی بے گ ن ا ہ ہے کیونکہ ایک س ا ن پ تالب میں اس کے نہاتے وقت داخل رح م ہو گا جس نے اندر ہی اندر پرورش پا کر یہ صورت اختیار کی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *