آپ ﷺ نے فر ما یا ۔ عورتوں کا ق ب ر ستان پر جا نا کیسا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور م ر دوں کو دف ن کرنے سے منع فر ما یا طلوع آفتاب کے وقت حتی ٰ کہ بلند ہو جا ئے جب سورج دوپہر کے وقت عین سر پر ہو حتیٰ کہ ڈھل جا ئے اور نمبر تین غروبِ آفتاب کے وقت حتیٰ کہ غروب ہو جا ئے یعنی جن اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے ا نہیں میں دف نانا بھی ابن ِ عمر ؓ سے روایت ہے کہ نمازِ ج ن ا ز ہ نماز ِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد ادا کی جا سکتی ہے یعنی فجر کی نماز پڑھ کر ساتھ ہی ج ن ا ز ہ پڑھا جا سکتا ہے عصر کی نماز بعض اوقات ج ن ا ز ہ پڑھا جا تا ہے عام نماز منع ہے لیکن ج ازے کی نماز پڑھی جا سکتی ہے ق ب ر گہری کھو دیں میت کو پاؤں کی طرف سے ق ب ر میں داخل کر یں میت کو ق ب ر میں رکھتے ہوئے دعا پڑھیں۔ اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ﷺ کے مذہب اور طریقہ پر اسے دف ن کر تے ہیں

سعد بن ابی وقاص ؓنے وصیت کی کہ میرے لیے لحد بنا نا لحد کیا ہو تا ہے اس پر کچی اینٹیں لگا نا جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ کی ق ب ر اونٹ کی کوہان جیسی تھی ۔ پھر ق ب ر پر مٹی ڈال کر سب لوگ میت کے لیے بخشش اور ثابت قدمی کی دعا مانگیں ج ن ا ز ہ کے بعد ق ب ر ستان سے نکل کر دعا کر نا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ ق ب ر وں کو پختہ بنانے کی مما نیت ۔ ان پر گنمبد ح رام ہے جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پختہ ق ب ر یں اور ان پر عمارت وغیرہ بنانے سے منع کیا ہے۔ نیز آپ نے ق ب ر پر بیٹھنے اور ان کی طرف منہ نماز پڑھنے سے بھی منع فر ما یا ہے چاہے کوئی شخص چلہ کشی کے لیے بیٹھے یا کسی بھی مقصد کے لیے سب نا جا ئز ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ق ب ر وں پر لکھنے سے بھی منع فر ما یا حضرت علی ؓ بیان کر تے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں ہر تصویر مٹا دوں اور ہر اونچی ق ب ر برابر کر دوں امِ حبیبہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک گرجے کا ذکر کیا کہ اس پر تصویریں لگی ہوئی تھیں جب یہ ہجرت کر کے گئیں کیونکہ عرب میں تو گرجہ نہیں تھا آپ نے فر ما یا جب ان لوگوں کا کوئی نیک شخص م ر جا تا تو وہ اس کی ق ب ر پر مسجد بنا تے اور تصویریں بناتے ہیں ق ی ا م ت کے دن یہ لوگ اپنے اللہ کے سامنے بد ترین مخلوق ہوں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *