”قرآن کی یہ 2 آیات ہمیشہ کےلیے یاد کرلو“

اس دور میں اور بالخصوص کرونا کے ان دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ روز گار کا ہے۔ رزق کیسے کمایا جائے؟

ہم آپ کو قرآن پاک کی دوآیات بتائیں گے ؟ جن کےبے شمار فوائد ہیں۔ ان میں سے سب سےپہلا فائدہ یہ ہے کہ رزق میں اضافہ : جو ان کلمات کو پڑھے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو وسیع رزق عطا فرمائے گا۔ ایک بندہ نے کہا کہ میرے روزگار میں مسئلہ ، میں نے ان آیات کےبارے میں سنا کہ اللہ تعالیٰ اس کو پڑھنےسے وسیع رزق عطا فرماتا ہے۔

تو میں نے ان کو پڑھنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کچھ ہی عرصے میں مالا مال کردیا۔ اس کا پہلا فائد ہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کا رزق وسیع کردیتاہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو آفات و مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ جو ان آیات کی تلاوت اور ان کا ورد کرتا رہتا ہے۔ اللہ پا ک ان کو ہر مصیبت سے دور رکھتا ہے۔

ایک اور واقعہ ہے کہ جس میں ایک بھائی نے بتایا کہ میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کہیں جارہا تھا۔ اچانک میرے سامنے ٹینکر پھٹا۔ اور میری گاڑی بالکل موم بن چکی تھی۔ مجھے نہیں معلو م کونسی طاقت نے مجھے کنارے پر کردیا۔ میری گاڑی تو چکنا چور ہوگئی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے کچھ نہیں ہونے دیا۔ یہ سب آسان آیات کا کمال تھا۔ جن آیات کی ہم بات کررہے ہیں۔ وہ “سورت التوبہ ” کی آخری دو آیات ہیں۔ ان آیا ت کا وظیفہ کس طرح سے کرنا ہے؟

حدیث میں ارشاد ہے کہ سورت التوبہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کریں۔ ہر حالت میں آپ چاہے کھڑے ہوں۔ بیٹھے ہوں یا لیٹے ہوئے ہوں۔ جو اسے چلتے اور لیٹتے ہوئے اپنی زبان پر رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے خیر کسیر عطا فرمائےگا۔ اگر آپ عزت وقار ، برکت ووسعت ، عظمت ووجاہت چاہتے ہیں۔ تو ان آیات کو اپنے ورد میں شامل کرلیں۔

اس کے اندر بڑی طاقت ہے۔ قرآن مجید اور حدیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے۔ کہ سورت التوبہ کے منافع وفوائد اس طرح سے ہیں۔ گن اہوں سے پاک ہوجانا، رحمت الہیٰ کا نزول ، بخشش خداوندی، ع ذاب آخرت سے نجات، جنت میں جانے کا استحقاق ، روح کی پاکیز گی ، دل کی صفائی ، ذلت ورسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول ، مال ودولت اور اولاد کے ذریعہ امداد ، باغا ت اور نہروں میں برکت،

قحط ومہنگائی کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔ اگر آپ کبھی کوئی جا ئز مقصد ہو ، جائز مقاصد کےلیے پورا دن کثرت سے ان آیات کو پڑھیں۔ بالخصوص ہر نماز کے بعد کم سے کم سو مرتبہ ان آیات کو پڑھیں۔ جو جو آپ کی آیات ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ پوری فرما دے گا۔ جتنے فوائد بتائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عطافرمائیں گے۔ سورت التوبہ کے متعلق توجہ کی جائے تو اس کی آخری آیتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔

کہ یہ آیتیں پیغمبر ﷺ کی اخلاقی سیرت اس سے فائدہ حاصل کرنے اور اللہ کی عام رحمت سے تو صل کو بیا ن کرتی ہیں۔ اس کے بعد یہ مسئلہ توحید بیان کرتے ہوئے اور یہ کہ حتی ٰ کہ پیغمبر ﷺ سے توصل بھی توحید کےسایہ میں قرار پاتا ہے۔ اگر چہ آنحضرت ﷺ کسیر نیکیوں کا سر چشمہ اور خیر کے کان ہیں۔ لوگوں کی سختیاں اور رنج آپ پر گرا گزرتے ہیں۔ اور مومنین کےلیے دل سوز و مہربان ہیں۔ لیکن اس حالت میں بھی مظہر الہیٰ ہیں۔

پیغمبر ﷺ سے روایت ہوئی ہے۔ کہ جو کوئی شخص سورت التوبہ کی آخری دو آیات کی تلاو ت کرے گا۔ قیامت کے دن اس کی شفاعت کرنے والا اس کے نفع میں گواہی والا ہوگا۔ وہ نفع آپ سے دور ہوگا۔ دنیا میں موجود تمام منافق مر د اور عورتوں کے تعدا د کے برابر دس حسنا ء عطا ہوں گے۔ اس کے دس گناباغ ہوں گے ۔ اس کے دس درجات ملیں گے ۔ جب تک وہ دنیا میں ہے۔ عر ش اور حاملان عرش اس پردرود بھجیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.