ناک سے خ ون یا نکسیر کا کامیاب گھریلو علاج

نکسیر گرم علاقوں کا ایک عام مرض ہے۔اس مرض میں ناک کی باریک اور چھوٹی نالوں پر دباؤ بڑھ جانے

سے اوپر والی جھلی پھٹ کر خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ خون کبھی قطروں کبھی دھار کی صورت میں بہتا ہے۔موسم گرما میں یہ تکلیف زیادہ ہوتی ہے تاہم موسم سرما میں بھی ہو جاتی ہے۔ عام طورپر چھوٹی عمر کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔بچوں کی نکسیر پھوٹنے کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نکسیر پھوٹنا یا ناک سے خون بہنے کا سبب گرمی یا بلڈ پریشر ہے۔طبی نقطہ نظر سے نکسیر پھوٹنے کا سبب بچوں کی ناک کے اندر خون لے جانے والی نسوں کا کمزور پڑ جانا ہے۔ اس عارضے میں مبتلا بچوں کی ناک کی نسیں پھول جاتی ہیں اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ان سے خون بہنے لگتا ہے۔ تاہم کچھ بچوں کا مرض خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اس لیے بار بار نکسیر پھوٹنے کی صورت میں بچے کا اسپیشلسٹ سے تفصیلی معائنہ کروالیں، کیوں کہ ایسے بچوں کو مستقل اور بھرپور علاج کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ مستقبل میں انہیں خون کی کمی یا سانس کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بچے کی بار بار نکسیر پھوٹنے کی وجہ اس کے سر، گردن یا پھر ناک کا کوئی مسئلہ ہو۔بچوں کی نکسیر پھوٹنے کے اسباب میں سر یا ناک پر چوٹ لگنا یا فریکچر بھی ہو سکتا ہے یا پھر بچوں کی عادت ہوتی ہے وہ ناک میں بار بار انگلی ڈالتے رہتے ہیں، جس کے باعث ناک میں زخم اور سوجن آسکتی ہے۔ اکثر سانس کی تکالیف میں مبتلا بچوں کو ناک میں کیے جانے والے اسپرے کے باعث ناک میں جلن، سوزش ہوتی ہے۔ بچے ناک کو رگڑتے ہیں، جس سے رگیں یا نسیں متاثر ہوتی ہیں اور ناک سے خون بہنے کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ نکسیر پھوٹنے کی ایک وجہ ناک کی ہڈی میں کوئی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الرجی سے بھی بچوں کی ناک میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔

بڑی عمر کے افراد میں نکسیر کی وجہ ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہوسکتا ہے۔در اصل ناک میں قدرت نے سیفٹی والولگایا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پریشر کْکر (جن میں کھانا پکاتے ہیں)ان میں ایک سیفٹی والو ہوتا ہے کہ اگر پریشر زیادہ ہو جائے تو وہ والو خود بخود کھل جاتا ہے اور برتن پھٹنے سے بچ جاتا ہے۔ جسم میں جب خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے تو خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ کی کوئی رگ پھٹ کر فالج ہو جائے۔ ایسے حالات میں نکسیر پھوٹ جاتی ہے اور خود کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ نکسیر کا پھوٹنا اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے کمزوری لاحق ہو جاتی ہے۔ نکسیر عموماً ناک کے اندر ورم وغیرہ سے ہوتی ہے۔ بہترہے کہ کسی اچھے معالج سے مشورہ کر لیا جائے۔بچے کے دونوں ہاتھ اور سر اوپر کو اٹھائیں اور سر، گردن اور منہ پر سادے یا ٹھنڈے پانی کے چھینٹے دیں اور پیشانی پر سے بھی پانی ڈالیں۔

بچے کو سادے پانی میں ذرا سا نمک گھول کر پلائیں اور سر اونچا کر کے دس سے پندرہ منٹ تک کے لیے لٹا دیں۔نکسیر پھوٹنے کے فوری بعد نیم کے پتے یا اجوائن پیس کر سر میں لگانا بھی خاصا مفید ثابت ہوتا ہے۔ رس دار پھل دودھ، دہی اور پانی والی ٹھنڈی ترکاریاں جیسے لوکی شلجم اور مولی وغیرہ کھائیں۔گرمی کے اوقات میں باہر نہ نکلے. صبح شام کے وقت میں باہر نکلےچھوٹے بچے جو سکول جاتے ہیں وہ اسکول سے واپسی پر گیلا کپڑا سر پر رکھیں۔ناک کے ساتھ زیادہ چھیڑ خانی نہ کی جائے۔ نکسیر کے مریض کو گرم اشیا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ گرم مسالوں اور مرچ کم کھائے۔ گوشت، مچھلی اور انڈے کھانے سے بھی پرہیز کرے۔گرم پانی کے ساتھ غسل نہ کرے۔

اگر چھینک آئے تو منہ کھول کر چھینکنا چاہیے۔موسم گرما میں ٹھنڈے مشروبات پئیں. شربت انجبار پینا مفید ہے۔نکسیر پھوٹنے کی صورت میں انگلی اور شہادت کی انگلی سے ناک کے نتھنوں کو دونوں طرف سے کچھ دیر تک دبا کر بند کر دیں. اگر ایک بار ایسا کرنے سے خون بند نہ ہو تو دو تین بار اسی طرح کریں. سر اور ماتھے پر برف رکھیں۔ٹھنڈے پانی میں پٹیاں بھگو کر نتھنوں میں رکھیے. روئی سے بھی نتھنوں کو بند کیا جا سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.