اذان کے جواب پر پانچ بڑے انعامات

یہ ایک ایسا عمل اور وظیفہ ہے کہ جو اجر و ثواب بھی ہے عبادت بھی ہے اور آپ کو اللہ تبارک وتعالیٰ پانچ

بڑے انعامات عطا فرمائیں گے آپ نے کوئی اکیس اکتالیس اکہتر دفعہ نہیں پڑھنا بالکل آسان عمل ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پابندی اوراعتماد کے ساتھ پڑھیں ۔پوری عظمت کے ساتھ اور پورے وقار کے ساتھ اہتمام کے ساتھ یہ عمل کرنا ہے جو شخص بھی مؤذن کی اذان کا جواب دیتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اسے پانچ بڑے بڑے انعامات سے نوازتا ہے جب مؤذن اللہ کی کبریائی کے بڑائی کے بول بولتا ہے اس کے ساتھ سننے والا چاہے میرا بھائی ہے سننے والی چاہے میرے بہن ہے وہ بھی اللہ رب العزت کی کبریائی بولتے ہیں کہ اللہ اکبر اللہ اکبر تو اللہ تبارک وتعالیٰ پانچ بڑے انعامات دیتے ہیں پہلا انعام یہ ہے کہ اللہ رب العزت ایسے لوگوں سے اور اس کی نسلوں سے نماز اور سجدے کی توفیق نہیں چھینے گا

نیک متقی اور پرہیز گا ر اس کے خاندان اور نسلوں میں آئیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی اولاد کو نیک بنائے گا صالح بنائے گا پہلا اور سب سے بڑا انعام یہ ہے دوسرا انعام یہ ہوگا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ مرتے وقت شیطان کے وسوسے سے بہکاوے سے محفوظ رکھ کر کلمہ شہادت اس کو نصیب فرمائے گا تیسرا انعام یہ حاصل ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ اہتمام کے ساتھ عظمت وقار اور اعتماد کے ساتھ مؤذن کی اذان کا جواب دینے والا باپندی سے جواب دینے والے شخص کو اللہ تبارک وتعالیٰ زندگی میں لازمی حج اور عمرے کی سعادت نصیب فرمائیں گے چوتھا انعام یہ ہوگا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے شخص کو معاشرے میں فیملی میں اور خاندان میں عزت اور قدر مقام اور مرتبہ عطافرمائیں گے ہر شخص قدر کی نگاہ سے عزت کی نگاہ سے اس کو دیکھے گا اس کا احترام کرے گا اس کی عزت کرے گا اور ادب اور احترام کے ساتھ پیش آئے گا اور آنکھوں دیکھے میرے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں

اور پانچواں سب سے بڑا انعام اللہ رب العزت رزق کے ایسے اسباب پیدافرمائے گاایسے در اور دروازے کھولے گا اور رزق میں ایسی برکتیں آئیں گی ایسے شخص کو اللہ تبارک وتعالیٰ کبھی بھی مالی تنگیوں کا شکار نہیں فرمائیں گے مالی پریشانیوں میں نہیں مبتلا کریں گے رزق کی تنگی میں ایسے شخص کبھی بھی مبتلا نہیں ہوگا ہمیشہ اللہ رب العزت اسے وسعت رزق عطافرمائیں گے اس کے رزق میں برکت اور کشادگی عطافرمائیں گے یہ پانچ بڑے انعام ہیں صرف ایک مؤذن کی اذان کے جواب دینے پر امید ہے آپ اس کو اپنے معمولات میں شامل کرلیں گے اور اس عمل کو اہتمام کے ساتھ کریں گے ۔ اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.