انجیر کے انگنت فائدے جس کے کھانے سے

آج میں آپ کو انجیر کے اتنے فائدے بتاؤں گی کہ جنہیں جان کر آپ خود ہی حیران رہ جائیں گے۔

اتنے فائدے بتاؤں گی نا کہ آپ خود حیران رہ جائیں گے۔ انجیر آپ کو بہت ساری بیماریوں سے بچاتی ہے اور آخر میں یہ بھی بتاؤں گی کہ اسکے زیادہ استعمال سے کیا ہوتا ہے یعنی اس کے چند ایک نقصانات کے بارے میں بھی بتاؤں گی انجیر کے فائدوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ انجیر کے کھانے سے بال لمبے ہو جاتے ہیں اب جن حضرات کے بال لمبے نہیں ہو رہے یا ان کے بالوں میں کسی بھی قسم کا مسئلہ ہے تو وہ انجیر کا استعمال کر یں اور اس کے بعد جن لوگوں کو رنگ گورا کر نا ہے۔

تو رنگ گورا کرنے کے لیے انجیر سے بہتر شاید ہی کوئی چیز ہو جو رنگ کو گورا کر تی ہو۔  اور اس سب کے بعد نمبر آتا ہے شوگر کا کمزوری کا سستی کا کاہلی کا اور جوڑوں کے درد کا اور اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر کی تکلیف کا کہتے ہیں کہ شوگر ایک لا علاج مرض ہے لیکن اس لا علاج مرض  کے لیے بھی انجیر بہت ہی فائدہ مند  چیز ہے۔  اور انجیر کے کھا جانے سے دماغی کمزور ی بھی دور ہوتی ہے اور قبض کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے بہت ہی آسانی کے ساتھ بس ہمیں اس کے استعمال کا صحیح طریقہ نہیں معلوم کہ ہم نے اس نعمت کو کس طرح سے استعمال کر نا ہے۔

ہم بس اس کو ایسے ہی مذاق کے طور پر کھا لیتے ہیں کبھی کبھار مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کو اگر اسکے فوائد کو مدِنظر رکھتے ہوئے کھا یا جائے تو بہت ہی زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے ہمیں یہ۔  اب انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کر نےسے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ جوڑوں کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ  شوگر میں بھی  کافی حد تک مدد مل جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہائی بلڈ پریشر کے جو مریض ہیں وہ یہ انجیر لازما ً استعمال کر یں خصوصاً دودھ میں ملا کر اس سے یہ ہوگا کہ ان کا جو مسئلہ ہےہائی بلڈ پریشر کا وہ دور ہو جائے گا اور وہ تندرست ہو جائیں گے   ان لوگوں کی ہی بیماری بہت ہی زیادہ بہتر ہو جائے گی۔

تھوڑی مقدا ر میں پانی ڈالنا رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی میں بھگو کر صبح نیم گرم پانی کے ساتھ ہی اسے کھا نا ہےا ور رات کو سونے سے پہلے آپ نے جب کھا نا کھا نا ہے تو کھا نا کھانے کے بعد تین عدد انجیر کو آپ نے پانی میں بھگو کر دودھ کےساتھ کھا نا ہے ۔ اس سے بے شمار فوائد آپ کو حاصل ہوں گے جسمانی طور پر۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.