اگر زندگی کی خوشیوں سے بھرنا چاہتے ہو تو ؟ دو چیزوں سے دور رہو؟

اگر آپ اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو عیب جوئی اورنکتہ چینی سے دور رہیئے۔وقت اور سمجھ ایک ساتھ خوش قسمت لوگوں کو ملتے ہیں

،کیونکہ وقت پر سمجھ نہیں ہوتی اور سمجھ آنے تک وقت نہیں رہتا۔ادب کا دروازہ اتنا چھوٹا اور تنگ ہوتا ہے کہ اس میں داخل ہونے سے پہلے سر کو جھکانا پڑتاہے۔نصیب سے زیادہ قیمتی دعا ہوتی ہے کیونکہ جب زندگی میں سب کچھ بدل جائے تب انسان کے پاس دعا ہی بچتی ہے جو نصیب بدل دیتی ہے۔حقوق اللہ میں معافی شرط ہے اور حقوق العباد میں تلافی ضروری ہے ، معافی اور تلافی کے بغیر والے کیس کا فیصلہ بروز قیامت ہو گا،اپنے کیس کا فیصلہ دنیا میں ہی کروا کے جائیں ،حشر کا معاملہ بہت نازک ترین ہے ۔اسلام اتنا خوبصورت مذہب ہے کہ صرف مسکرانے پر بھی آپ کو ثواب ملتا ہے یہاں تک کہ غصے کی حالت میں خاموش رہنے پر بھی ثواب ملتا ہے۔پھولوں کی مہک کچھ دن بعد ختم ہوجاتی ہے ،

مگر اچھے سلوک اور اخلاق کی مہک انسان کی موت کے بعد قائم رہتی ہے۔اعتماد ایک چھوٹا سا لفظ ہے جسے پڑھنے میں سیکنڈ سوچنے میں منٹ سمجھنے میں دن مگر ثابت کرنے میں ساری زندگی لگ جاتی ہے۔محبت کے پھول تقسیم کرنے والوں کے دامن کبھی بھی خوشیوں سے خالی نہیں ہوتے آزمائشیں انسان کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے آتی ہیں صبر اور برداشت کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔اے اللہ تیرے کن کی منتظر میری کچھ دعائیں میرے دل کو بے چین رکھتی ہیں تو ان کو قبول فرما۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کو سمجھنا اور پھر اس کی کیفیت کو کوئی انسان محسوس تو کر سکتا ہے لیکن اسے بیان کرنا کسی انسان کے بس کا کام ہی نہیں ، کیونکہ وہ سب کچھ کسی انسان کے بیان میں آ ہی نہیں سکتا ،اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں انسانوں کے خالق کی وحی کا ذریعہ ہی اپنانا ہو گا کیونکہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں خود مخلوق سے زیادہ جانتا ہے۔خلیفہ دوئم بلا فصل أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ ایک دفعہ کچھ قیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے لائے گئے تو ان میں ایک ایسی عورت بھی تھی جو اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے بے تاب تھی اور اس کی حالت کچھ ایسی تھی کہ جیسے اس کی چھاتیوں سے دودھ نکل ہی جانے والا تھا اور وہ قیدیوں میں اپنا بچہ ڈھونڈھ رہی تھی جو اسے مل گیا تو اس نے فوراً اس کو پکڑ کر اپنے پیٹ کے ساتھ چمٹا لیا اور اسے دودھ پلانے لگی یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا أَتُرَونَ هَذهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا في النَّارِ کیا تُم لوگ یہ خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ ہم سب نے عرض کیا لَا وَهِيَ تَقدِرُ على أَن لَا تَطرَحَهُ جی نہیں باوجود اس کے کہ یہ عورت ایسا کرنے کی طاقت رکھتی ہے یہ عورت ایسا نہیں کرے گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لَلَّهُ أَرحَمُ بِعِبَادِهِ من هذه بِوَلَدِهَا یہ عورت اپنے بچے پر جس قدر رحم کرتی ہے اللہ تو اپنے بندوں کے ساتھ اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.