ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ عورت اپناجسم دیتی ہے تاکہ محبت حاصل کرسکے اور مرد؟؟

ضروری نہیں کہ کچھ غلط کرنے سے دکھ ملے ۔ حد سے زیادہ اچھا ہونے کی بھی قیمت چکانی پڑتی ہے۔

زندگی جب دیتی ہے تواحسان نہیں کرتی اور جب لیتی ہے تولحاظ نہیں کرتی۔ دنیا میں کچھ ایسے مرد بھی ہیں جو عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیتے ہیں۔ سارے مرد لٹیرے نہیں ہوتے کچھ عزت کے محافظ بھی ہوتے ہیں۔ محبت کرنے والے بددعائیں نہیں دیتے ۔

کیونکہ جہاں محبت کا بسیرا ہوپھر وہاں نفرت اور عداوت کا کیا کام۔ عورت کے قانون کے مطابق اگر تم اس سے محبت کرتے ہو تو اس زمین کی باقی ساری عورتوں سے تمہیں لازمی نفرت ہونی چاہیے۔ مجھ سے کسی نے پوچھا درد کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ میں نے کہا مجھے کیا پتہ مجھے تو لوگ مفت میں دیتے ہیں۔ جس انسان تنہائی کو پسند کرنے لگ جائے تو سمجھ لو کہ وہ لوگوں کی حقیقت جان چکا ہے۔

ہم قبرستانون میں احتیاط سے چلتے ہیں کہ کسی قبر پر پاؤں نہ آجائے اور زند گی کی دوڑ میں زندہ انسانوں کو قدموں تلے کچلتے رہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں حیا آنکھوں میں ہونی چاہیے ۔ لیکن میں کہتی ہوں حیا کردار میں ہونی چاہیے ۔ آنکھیں کبھی بھٹک بھی جائیں تو مضبوط کردار آنکھوں پر قابو پالیتاہے۔ کسی کو اپنے جذبوں کا رازدار بنانے سے پہلے سوچ لیں۔ کہ جب راز داروں کی سرحدوں کو پار کر کے دوسرے سماعتوں کے شریک بن جائیں تو کئی بار اپنی حرمت کھو دیتے ہیں۔

کون جانے سننے والے کا ظرف اتنا بلند ہو بھی یا نہیں کہ وہ آپ کے جذ بوں کی قیمت کو جان سکے ۔ تعلقات کو توجہ درکار ہوتی ہے۔ ورنہ جذبے بڑی خاموشی سے سسکتے سسکتے مرجاتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے پودے پانی نہ ملنے پر سوکھ جاتے ہیں۔ ہمارے لیے کتنا آسان ہے نہ رشتوں کو اپنے اندر کی کڑواہٹ کا شکار بنا کر اپنے مزاج وقت حالات و واقعات کو جواز بنا کرہم اپنے ہر تلخ طرز عمل پردوسروں سے ہی قربانی مانگیں۔ جبکہ ضروری کام ہم پھر بھول جاتے ہیں۔

کہ تبدیلی رویوں میں ضروری ہوتی ہے۔ ورنہ دوسرے کب تک دلوں میں گنجائش نکالیں۔ زندگی تجربات کا نام ہے ۔ کچھ تجربات خود کرنے پڑتے ہیں اور کچھ دنیاخودسکھادیتی ہے۔ دوبارہ گرم کی گئی چائے اور سمجھوتا کیا ہوا رشتہ ، دونوں میں پہلے جیسا ذائقہ کبھی نہیں رہتا۔ ایک بات اور ذہن نشین کرلیں وہ یہ کہ انسان کا پیٹ اور غرور اگر بڑھ جائے تو اپنوں کو گلے لگا نا مشکل ہوجاتا ہے۔

وفا کا درس پھولوں سے سیکھو جو کانٹوں سے جدا ہوتے ہی مرجھا جاتے ہیں۔ محبت اگر خدا سے ہوتو بندگی بن جاتی ہے۔ اگر مذہب سے ہوتو ایمان بن جاتی ہے۔ اگر شریک حیات سے ہوتو دنیا بن جاتی ہے۔ اگر دولت سے ہوتو فکر بن جاتی ہے۔ جب عاشق کے پاس الفاظ ختم ہوجاتے ہیں تو وہ چومنا شروع کردیتا ہے۔ کچھ لوگوں کو ان کی غلطیوں کی معافی تومل سکتی ہے۔

مگر وہ مقام نہیں جو وہ ہماری زندگی میں کھو چکے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ نے وہ لے لیا جسے کھونے کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ تو یقیناً وہ کچھ ایسا بھی دے گا جسے پانے کا آپ نے شاید سوچابھی نہ ہوگا۔ جب رویوں کی بدصورتی محسو س ہونے لگے تو اپنے آپ کو کچھ وقت کے لیے خاموش کر لیں۔ بحشت بے تکے مکالمے سے پرہیز کریں۔ جب آپ کسی کےلیے غیر اہم ہورہے ہوتے ہیں۔ وہاں چیخ و پکار معاملے کو اورزیادہ بگاڑتی ہے کچھ وقت کے بعد آپ اپنی اہمیت کا رویہ محسوس کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *