من و سلویٰ چاہئے تو یہ چھوٹی سی سورۃ پڑھیں ، کاروباری بندش اور فاقے بھی ختم ہوجائیں گے، رزق پانی کی طرح پاس آئے گا

تنگی و فاقہ سے دوچار ہونے والوں اور کاروبار میں نقصان ہونے لگ جائے توامکان پیدا ہوجائے کہ کاروبار کا سنبھلنا مشکل ہے تو ایسے میں مسلمانوں کو سورہ المائدہ کی تلاوت کرنی چاہئے ۔ مفسرین کے مطابق سور ہ المائدہ کے معنی آسمان سے اترنے اور دستر خوان کے ہیں اس سورۃ میں حضرت عیسیٰ ؑ کے اس واقعہ کا ذکر ہے جس میں ایک قوم نے ان سے تقاضا کیاتھا کہ آپؑ آسمان سے دسترخوان کے اترنے کی دعاکریں اور حضرت عیسیٰؑ نے دعا کی اور پھر دسترخوان نازل ہوا اس لئے اس سورۃ کا نام المائدہ رکھا گیا ۔اگر کوئی شخص باوضو 41 مرتبہ سورۃ المائدہ کو پڑھے تو اس کے گھر والے فاقہ سے محفوظ رہیں گے اور اس کا پڑھنے والا دنیا کے لوگوں کی نگاہ میں عزیز ہوگا۔

اگر کوئی شخص سورۃ المائدہ لکھ کر صندوق میں رکھ دے گا تو اس کا سامان محفوظ رہے گا اگر سورۃ المائدہ کو لکھ کر پانی میں گھول کر یہ پانی ایسے مریض کو پلایا جائے جو سخت پیاس مھسوس کرتاہو تو وہ سیراب ہوگا اور اسے پیاس لگنی ختم ہوجائے گی اگرکوئی شخص رات کو نماز تہجد کے بعد سورۃ المائدہ دس بار پڑھے گا ا اور اسے عرق گلاب و زعفران سے لکھ کر اپنے پاس رکھے گا تو اس کا کوئی مخالف اس کو نقصان نہیں دے گا اگر کسی کی زبان لڑکھڑاتی ہوتو وہ سورۃ المائدہ کو عرق گلاب و زعفران سے لکھ کر اسے پانی میں گھول کر پئے ایک ہفتے کے اندر اس کی لڑکھڑاہت ختم ہوجائے گی۔ یہ حالات تھے جب سُورہ ٔ مائدہ نازل ہوئی۔

یہ سُورہ حسب ذیل تین بڑے بڑے مضامین پر مشتمل ہے:1:مسلمانوں کے مذہبی ، تمدنی اور سیاسی زندگی کے متعلق مزید احکام و ہدایات۔ اس سلسلہ میں سفرِ حج کے آداب مقرر کیے گئے، شعائر اللہ کے احترام اور زائرین کعبہ سے عدم تعرّض کا حکم دیا گیا ، کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال کے قطعی حُدُود قائم کیے گئے اور دَورِ جاہلیت کی خود ساختہ بندشوں کو توڑ دیا گیا، اہلِ کتاب کے ساتھ کھانے پینے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی، وضو اور غسل اور تیمم کے قاعدے مقرر کیے گئے، بغاوت اور فساد اور سرقہ کی سزائیں معین کی گئیں ، شراب اور جُوئے کو قطعی حرام کر دیا گیا، قسم توڑنے کا کفارہ مقرر کیا گیا، اور قانونِ شہادت میں مزید چند دفعات کا اضافہ کیا گیا۔2:مسلمانوں کو نصیحت۔ اب چونکہ مسلمان ایک حکمران گروہ بن چکے تھے ، ان کے ہاتھ میں طاقت تھی، جس کا نشہ قوموں کے لیے اکثر گمراہی کا سبب بنتا رہا ہے ۔

مظلومی کا دَورخاتمہ پر تھا اور اس سے زیادہ سخت آزمائش کے دَور میں وہ قدم رکھ رہے تھے ، اس لیے ان کو خطاب کر تے ہوئے بار بار نصیحت کی گئی کہ عدل پر قائم رہیں، اپنے پیش رَو اہلِ کتاب کی روش سے بچیں ، اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اور اس کےاحکام کی پیروی کا جو عہد انہوں نے کیا ہے اس پر ثابت قدم رہیں اور یہود و نصاریٰ کی طرح اس کو توڑ کر اُس انجام سے دوچار نہ ہوں جس سے وہ دوچار ہوئے۔ اپنے جملہ معاملات کے فیصلوں میں کتابِ الہٰی کے پابند رہیں ، اور منافقت کی روش سے اجتناب کریں۔3:یہودیوں اورعیسائیوں کو نصیحت ۔ یہُودیوں کا زور اب ٹوٹ چکا تھا اور شمالی عرب کے تقریبًا تمام یہُودی بستیاں مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگئی تھیں۔ اِس موقع پر ان کو ایک بار پھر ان کے غلط رویہ پر متنبہ کیا گیا ہے اور انہیں راہِ راست پر آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ نیز چونکہ صُلح حدیبیہ کی وجہ سے عرب اور متصل ممالک کی قوموں میں اسلام کی دعوت پھیلانے کا موقع نِکل آیاتھا ا س لیے عیسائیوں کو بھی تفصیل کے ساتھ خطاب کر کے ان کے عقائد کی غلطیاں بتائی گئی ہیں اور انہیں نبی ِ عربی پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ہمسایہ ممالک میں سے جو قومیں بُت پرستی اور مجوسی تھیں ان کو براہِ راست خطاب نہیں کیا گیا ، کیونکہ اُن کی ہدایت کے لیے وہ خطبات کافی تھے جو اُن کے ہم مسلک مشرکینِ عرب کو خطاب کرتے ہوئے مکّہ میں نازل ہو چکے تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *