نماز میں برے خیالات یا وسوسوں سے بچنے کا زبردست عمل

یہ عین ہماری عین خوش قسمتی ہے کہ ہمیں اللہ کریم نے اپنے حبیب کریم ﷺ کے صدقے غیر ارادی خیالات کی معافی دے رکھی ہے جس بارے اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ولیس علیکم جناح فیما اخطئتم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم اور جو بات یا کام تم بھول کر یا غلطی سے کر بیٹھو تو اس کا تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو تم دل سے اراد ہ کر کے کرو اس کا گناہ ہے اور حدیث پاک میں یقینا اللہ کریم نے میری امت سے ان کے دل کے برے خیالات اور وسوسوں سے درگذر فرمادیا مؤاخذہ نہ ہوگا جب تک ان پر عمل نہ ہو یا زبان سے نہ کہا جائے اللہ کریم نے میرے امت سے معاف فرما دیا خطازور اور جس سے زبر دستی کی جائے فقہائے امت لکھتے ہیں کہ اگر نماز کے شروع کرتے وقت کوئی دنیاوی خیال نہ ہو اور بعد میں شیطان دل میں کوئی خیال ڈالے تو یہ عذر ہو گا کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ شیطان وسوسے ڈالنے کے لئے انسان کے جسم میں خ و ن کی طرح دوڑتا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں یہ شیطان انسان کے دل پر پھیل جاتا ہے

اور جب یہ انسان کا دل ذکر الٰہی کرتا ہے تو شیطان سکڑ جاتا ہے اور جب دل غفلت میں ہوتا ہے تو شیطان پھر دل پر پھیل جاتا ہے لہٰذا قرآن میں ہے بے شک جو پرہیز گار ہیں جب انہیں شیطان کوئی وسوسہ ڈالتا ہے تو ہوشیار ہوجاتے ہیں اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں بے ارادہ خیالات کی معافی کا یہ مطلب بھی نہیں کہ خیالات آتے ہیں تو آنے دیں اور قصدا ان میں محو ہوجائیں بلکہ ان کے خلاف جہاد کریں کیونکہ نماز کو خیالات اور وسوسوں سے بچا کر توجہ اللہ کریم کی طرف مرکز کرنا جہاد ہے اور ایک صحابی نے آقا کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرے دل میں ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں ان کو زبان پر لانے سے پہلے یہ بہتر سمجھتا ہوں کہ جل کر کوئلہ ہو جاؤں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ایسی بری بات کو وسوسے کی طرح پھیر دیا ہے تو بعض صحابہ کرام پیارے آقا ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ ہمارے دلوں میں بعض ایسے برے خیال آتے ہیں

ہم ان کو اگر زبان پر لانا بھی پسند نہیں کرتے آپﷺ نے فرمایا کیا واقعی تمہاری یہ حالت ہے تو انہوں نے عرض کی ہاں رسول اللہ ﷺ تو آپﷺ نے فرمایا یہ تو خالص ایمان کی علامت ہے کہ وسوسہ و خیال کو بھی اتنا برا سمجھتے ہو کہ چور بھرے گھر میں ہی آتا ہے شیطان مومن کی فکر میں رہتا ہے تو ایسے ہی بہت سارے اور بھی واقعات ہیں جب بھی کوئی وسوسہ آئے تو کوشش کیجئے وسوسوں کو ان کی طرف دھیان نہ دیں بلکہ خاص جیسے خاصل لوگ نماز پڑھتے ہیں نماز ہم بھی پڑھتے ہیں لیکن اللہ کریم کے پیارے بندے بھی پڑھتے ہیں فرق اتنا ہوتا ہے کہ ہم ہر طرف سے باخبر ہوتے ہیں مگر اللہ کریم کے پیارے بندے نمازمیں اتنے مستغرق ہوتے ہیں کہ آس پاس سے بے خبر ہوتے ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *