گردوں کا 101فیصد بہترین علاج

گردے ایک بڑا ہمارے جسم کا آرگن ہے جس کی خرابی ہمیں بہت سی مصیبتوں میں مبتلا کردیتی ہے۔ سب سے پہلا کام گردوں سے متعلق ہمارے دماغ میں آتا ہے

یہ ہمارے پیشاب کو فلٹر کرتا ہے۔ جسم میں جتنے فالتو اجزاء ہوتے ہیں ۔ ان کو پیشاب کے رستے جسم سے خارج کرتا ہے۔ گردے میں اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے گردے میں رسولی پیدا ہوجائے ۔

گردے سکڑ جاتے ہیں۔ گردے میں پتھری پیدا ہوجاتا ہے۔ گردے میں انفیکشن پیدا ہوجاتی ہے۔ جسے ہم کڈنی سٹون وغیرہ کے نام سے جانتے ہیں کوئی بھی مسئلہ ہو بہرحال تنگی دیتی ہے اور اگر درد شروع ہوجائے تو بہت شدید ہوتی ہے۔ گردے کے درد بڑی شدید درد ہوتی ہے۔ اس لیے گردے کی خرابی میں اور خاص طور پر اگر آپ کا پیشاب وغیرہ رک جائے جسے ڈس یوریا بھی کہتے ہیں۔اگر وہ رک جائے تو ایک بڑی مصیبت بنتی ہے۔ پیشاب کی رکاوٹ اس کو دور کرنے کےلیے کلونجی جو کہ پیشاب آور دوا بھی ہے تو کلونجی کا جوشاندہ شہد میں ملا کر پی فوری طور پر آپ کو کھل کر پیشاب آئےگا۔ اس کے علاوہ کلونجی گردے کے انفیکشن ، انفلامیشن اور پتھری کےلیے بھی بہت مفید ہے۔ گردے اور مثانے کی پتھری آج کل ایک عام بیماری ہے ۔ہر دوسرا شخص پتھری کا شکار ہے۔کسی کے گردے میں پتھری ہے ۔ کسی کے مثانے میں پتھری ہے۔ بہرحال اگرآپ چاہتےہیں کہ آپ گردے اورمثانے کی پتھری سے بچے رہیں تو آج سے ہی آپ کلونجی کا استعمال شروع کردیں۔ اب اس کا استعمال کیسے کرنا ہے؟ آپ گردے کے درد، پتھری ، انفیکشن اور سوجن ان سے بچے بھی رہیں۔ا ور اللہ نہ کرے اگر یہ مسئلہ پیدا ہوجائے تو یہی حالات ان کو ٹھیک بھی کردے گا۔لیں۔

یہ بڑاسادہ سا اور آسان سا نسخہ ہے۔ تو سب سےپہلے ایک کپ گرم پانی لے لیں۔ اس میں دو چمچ خالص شہد کے ڈال دیں۔یہ چھوٹا یابڑا تقریباً خالص ہونا چاہیے۔اور مکس کریں۔ اس کے بعدآدھا چمچ کلونجی کا تیل کا ڈال دیں۔ آپ اسے روزانہ لے سکتے ہیں۔ اور اگر جو تکالیف گنوائی ہے ان میں سے ایک بھی تکلیف ہے ۔ توآپ اس کو صبح وشام نہار منہ استعمال کرسکتے ہیں۔ انشاءاللہ! آپ استعمال کریں گے آپ امراض سے بچے رہیں گے ۔ اللہ نہ کرے کہ ان میں سے کوئی مرض ہوجائےتو اس کے استعمال سے آپ کو مرض سے شفاء ملے گی۔

لیکن ٹھہرئیے خالی دوا نہیں پرہیز بھی ساتھ کرنا لازمی ہے۔” کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے”۔ پرہیز کیا ہے؟ کہ اگر آپ کو گردے اور مثانے کا مسئلہ ہے ۔ در د ہے پیشاب رک کر آرہا ہے۔ کم آرہا ہے۔ تو سب سے پہلی بات پانی کے استعمال کریں۔ آپ کوروزانہ کم ازکم بارہ سے اٹھارہ گلاس پانی کےپینے چاہیں۔ اس کےساتھ ساتھ چاول بالکل بند کردیں۔ کیونکہ گردے کے مریض جب بھی چاول کھاتے ہیں توانہیں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کے بعد کیا رہ جاتاہے چکنائی والی چیزاور تیزمرچ مصالحے والی چیزیں۔ ان سے حتمیٰ الامکان جتنا بھی آپ ان کوکم کرسکیں۔ پرہیز کرسکیں۔ وہ کریں۔ جو پتھری والے مریض ہیں۔ جن کے گردوں میں پتھری بن گئی ہے۔ یا پتھری بننے کارحجان رہتا ہے۔ یعنی نکلتی بھی رہتی ہے اور بنتی بھی رہتی ہے۔ تو ان کو چاہیے کہ وہ ایسی غذا میں جس میں آئرن زیادہ ہو۔ جس میں کیلشیم زیادہ شامل ہو۔ ان سے تھوڑے سے احتیاط کرلیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.