ہارٹ اٹیک سے بچنے کا آزمودہ عمل

آج میں جس موضوع پر بات کر نا چاہتا ہوں آپ لوگوں کے ساتھ وہ ایسا موضوع ہے کہ جس کی وجہ سے

لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں  اور اس بیماری کو ہم نے بہت ہی آسان لے لیا  ہے ہم اس بیماری کے متعلق جانتے تو ہیں مگر اس بیماری کو ہم نے آسان لے لیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بیماری کچھ ہے ہی نہیں ہم نے کبھی بھی اس بیماری کے بارے میں  نہیں سوچا کہ آیا یہ بیماری ہوتی ہی کیوں ہے  اس کے ہونے کے کیا اسباب ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے نہ ہونے کے کیا فوائد ہیں ا ور جب یہ بیماری ہوتی ہے۔

تو اس کے ہونے کے کیا اسباب ہیں اور اس کی کیا وجو ہات ہیں ہم نے کبھی بھی ان مسائل کے بارے میں جاننے کی کوشش بالکل نہیں کی ہم نے بس ایسی غذا کا استعمال کیا کہ جس غذا کو استعمال کر کے ہم نے اپنی صحت کو ہی نقصان پہنچا یا  نا ہی ہم نے سو چا کہ یہ جو خوراک ہم کھا رہے ہیں یہ خوراک ہماری صحت کے  لیے ضرور ی ہے بھی صحیح یا  نہیں یہ جو خوراک ہم کھا رہے ہم نے کبھی نہیں سو چا کہ یہ ہمارے صحت کے لیے مفید ہے بھی صحیح یا نہیں بس ہم نے غذاکو ایسے کھا یا کہ جیسے ہماری صحت کے لیے ہر خوراک ہی مفید ہے مگر ایسا نہیں تھا ہماری سوچ غلط تھی ہماری سوچ بہت ہی زیادہ غلط تھی۔

وہ ایسا موضوع ہے  جس کی وجہ سے  ہمارے اندر ایک بہت بڑی بے چینی پائی جاتی ہے بہت  ہمارے اندر ہر بندہ اس سے بہت زیادہ پریشان ہوتا ہے وہ ہے دل کے امراض ۔ دل کے امراض وہ ہارٹ اٹیک کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہم بہت زیادہ پریشان ہیں جس بندے کو پتہ چل جاتا ہے کہ اسے ہارٹ کا پرابلم ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کی زندگی کے دن گننا شروع ہو جاتے ہیں وہ اپنے اندر اتنا پریشان ہوتا ہے کہ اس کو شاید اس کا مرض اتنی تکلیف نہ دے رہا ہو جتنا اس کو یہ سوچ تکلیف دے رہی ہوتی ہے کہ اس کو دل کا مسئلہ لاحق ہوچکا ہے۔ ہم جب اس مسئلے کے بارے میں جانتے ہیں تو  ہم اس کے بارے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہوتے ہیں۔

ہم اس کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے ہیں کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے یہ ہارٹ اٹیک بہت ہی خطر ناک بیماری ثابت ہوسکتی ہے۔   اس مرض کو سن کر مریض پریشان ہو جاتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا حل ہمارے طب کے اندر ہمارے مشرقی طب کے اندر ہمارے بہت سارے حکمائے کرام نے اس کا بہت علاج کیا ہے۔ہمارے پاس اس کا بہت ہی سستا اور آسان علاج موجود ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *