یا اللہ یا حفیظُ ، پورے دن میں ایک مرتبہ پڑھنے کا معجزہ دیکھو ، آس پاس ، محلے والے دنگ رہ جائیں گے کہ آخر یہ بندہ کرتا کیا ہے کہ ایسی زندگی گزار رہا ہے

ہربندہ مرد ہو یاعورت یہ چاہتا ہے کہ میری ہر شرسے ہر فتنے سے ہر تکلیف سے حفاظت رہے مجھے کوئی بھی دُکھ نہ پہنچے یہ ایک دلی تمنا اور خواہش ہوتی ہے اور یہ خواہش جائز بھی ہے یعنی اللہ کی طرف سے یہ ضرور ہونا چاہئے کہ اللہ اپنی رحمت سے ہماری حفاظت فرمائے دشمنوں سے درندوں سے پریشانیوں سے اس چیز کے لئے دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں اور ایک مجرب اس کام کے لئے وظیفہ بھی ہے وہ اللہ کے ذاتی نام کے ساتھ اللہ کا ایک صفاتی نام لگانا ہے آپ نے یا اللہُ یا حفیظُ یہ آپ نے چلتے پھرتے ہر وقت پڑھتے رہنا ہے جب ذہن میں آجائے پڑھنا شروع کردیں جتنا بھی پڑھ سکیں پڑھ لیں پچاس مرتبہ سو مرتبہ زیادہ ہو یا اس سے کم ہو تو بیچ میں اپنے کام بھی کرتے رہیں جب بھی آپ فارغ ہوں یہ وظیفہ کرتے رہیں ایک تو اس کی بہت بڑی برکت ہے اللہ کا نام کتنا عظیم ہے اللہُ اکبر جب کہتے ہیں

کہ اللہ سب سے بڑا ہے تو ذہن میں آجاتی ہے یہ بات کہ ہر چیز چھوٹی ہے اللہ کی ذات بہت بڑی ہے تو آپ یا اللہ یا حَفِیظُ جب یہ کہیں گے حَفیظُ کا معنی ہے حفاظت کرنے والا آپ ہر وقت پڑھتے رہیں گے اللہ آپ کی اتنی بڑی حفاظت کریں گے آپ موذی قسم کے جانوروں اور درندوں کے درمیان بھی کھڑے ہوں گے وہ کبھی بھی آپ کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور لوگوں کے شر اور فتنوں سے بھی اللہ آپ کی حفاظت فرمائیں گے یہ بہت ہی آسان اور بہت ہی مجرب اور بہت طاقتور وظیفہ ہے بشرطیکہ آپ اپنی زبان کے اوپر اس کا ورد جاری رکھیں چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے لیتے ہوئے ہر حالت میں آپ پڑھ سکتے ہیں ۔خلیفہ دوئم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کہ آپ کبھی بدصورت اور برے نام والوں کو کام کا نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ بوری اٹھوانے کے لیے راہ گیر کو آواز دی جب وہ قریب آیا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگا میرا نام ظالم ہے۔فرمایا باپ کا؟ کہنے لگا سارق ہے۔حضرت نے اس سے بوری نہیں اٹھوائی اور فرمایا۔جاؤ تم ظلم کرو اور تمہارا باپ چوری کرے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.