”دورانِ نماز پیشاب کے قطروں کا آ نا“

پیشاب کا قطرہ جسے آ تا ہو اس کے لیے نماز کا کیا حکم ہوگا وضو کر کے آ یا تو پیشا ب پھر آ گیا یا پھر جو ہے

نماز میں سجدہ یا رکو ع کر رہا تھا تو تب پیشاب کا قطرہ آ گیا نماز کی حالت میں پیشاب کاقطرہ آ گیا اس کو سمجھیے گا۔ آج کل یہ مسائل پیش آتے ہیں اسی لیے ان کے بارے میں بتا نا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔ اور ان مسائل کو سمجھنا بھی بہت زیادہ ضروری ہے۔ جیسا کہ بتا یا گیا ہے کہ سب سے پہلی بات تو یہ سمجھیں کہ بیماری کسی بیماری میں پیشاب کے قطرے بیماری ہے اگر وہ اس طرح ہو کہ مسلسل پیشاب کے قطرے آ تے رہتے ہیں مطلب اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر ایک یا دو سیکنڈ بعد پیشاب کے قطرے آ جاتے ہیں

مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ وضو کر کے فٹافٹ فرض نماز پڑ ھ سکے اتنا بھی ٹائم نہیں ملتا ہے۔ جیسے ہی وضو کر نے گیا پیشاب کا قطرہ آ گیا یا اگر وضو کر بھی لیا تو نماز پڑ ھنے گیا تو پیشاب کا قطرہ آ گیا فرض نماز پڑ ھ رہا تھا نماز کی حالت میں بھی پیشاب کا قطرہ آ جا تا ہے اتنا ٹائم نہیں ملتا کہ وہ فرض نماز ادا کر سکے تو پھر وہ جو ہے ایسی صورت میں وہ مریض کے حکم میں آ جائے گا اور اس کے لیے یہ مسئلہ بتا رہا ہوں اگر ایسا نہیں ہے کہ مسئلہ دوسرا ہے اگر یہی مسئلہ ہے یہی اس کے معاملہ پیش آ رہا ہے پیشاب کا جو قطرہ ہے تو ایسی صورت میں وہ ہر نماز کے وقت میں وضو کر ے گا جیسے ظہر کی نماز کا ٹائم آ یا اور وضو کر لے گا اس کے بعد جتنی مرتبہ پیشاب کا قطرہ آتا رہے

اس کا وضو نہیں ٹوٹا ۔ وضو با لکل باقی ہے اب اس ظہر کی پوری نماز کے وقت میں جتنی مرتبہ چاہے گا وہ جتنی نماز چاہے گا پڑ ھ سکتا ہے یعنی قضا نماز سنت نماز واجب نماز قرآن کی تلاوت وغیرہ۔ یہ سب کر نا چاہے گا تو کوئی ہرج نہیں۔یعنی وہ پیشاب اس کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہوگا۔ ٹھیک ہے؟ ہاں۔۔۔ اگر اب دیکھیے ، یہاں ایک اور چیز اور سمجھئے کہ جیسے ہی دوسری نماز کا وقت داخل ہو جائے گا مثلاً عصر کا وقت آ گیا خود بخود جیسے ہی عصر کا وقت داخل ہوگا اس کا وضو ٹوٹ گیا پھر سے عصر کی نماز کے لیے اس وضو کر نا پڑ ے گا۔ اور نماز کے پورے وقت میں جو نماز چاہے گا ، جتنی نمازیں چاہے گا پڑ ھ سکتا ہے اور قرآن کی تلاوت بھی کر سکتا ہے۔ تو اس مسئلے کو برائے مہربانی سمجھ لیجیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *