حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو غ صہ جلدی آئے اس کو بردباری سے مٹاؤ اور

اپنی جہالت ونادانی کو علم سے چھپاؤ۔ علم نجات بخشتا ہے۔ اور جہالت ہلاکت میں مبتلا کرتی ہے۔ جس کی امید چھوٹی ہو اس کا عمل درست ہوتاہے۔ بہترین عمل وہ ہے جس میں صدق نیت شامل ہو۔ نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہوجاؤ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا بہترین عمل ہے۔ کئی عبادت گزار ایسے ہوئے جن کے دین اور ایمان کاکوئی ٹھکانہ نہیں۔ جوحرام سے پرہیز کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کی عبادت میں حسن وخوبی پیدا فرما دیتا ہے۔ خندہ روئی سے پیش آنا بڑی نیکی ہے۔ اور کارخانہ ء قدرت میں فکرکرنا بھی عبادت ہے۔ ۔ جس کی عقل درست نہیں وہ اپنے خیال میں اصلاح کرتا ہے مگر درحقیقت وہ فساد برپا کرتا ہے۔ خدا سے مانگنا شجاعت ہے اگر دے تو رحمت اور نہ دے تو حکمت مخلوق سے مانگنا ذلت ہے اگر دے تو احسان اور اگر نہ دے تو شرمندگی۔ جو اپنے نفس کی حقیقت سے آگاہ نہیں وہ اپنے حال کی اصلاح سے بے نیار رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان سے اس وقت راضی ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی تقدیر پر راضی ہوتا ہے۔

حسن خلق ایک نہایت عمدہ ساتھی ہے۔ جبکہ غرور تکبر اندرونی بیماری ہے۔ وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔ اور غ صہ میں زبان سے بے ہودہ الفا ظ مت نکالو۔ طویل امیدیں عمل کو بگاڑتی ہیں۔ اور زندگی کو فناء کرتی ہیں۔ اپنی زبان کو یوں محفوظ رکھو۔ جس طرح سونا اور چاندی کو محفوظ رکھتے ہو۔ تمہاری زبان وہی بات کرے گی۔

جس کا تم نے اسے عادی بنایا ہے۔نیک انسان کی زبان ہمیشہ یاد خداوندی میں مشغول رہتی ہے۔ حضرت علی سے کسی نے پوچھا: میں بہت کو شش کرتا ہوں، کہ صبح نماز پڑھوں مگر اٹھا نہیں جاتا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نیند کی وجہ نہیں بلکہ تم جو سارا دن گن اہ کرتے ہو، وہ تمہاری گردن میں توک ہاتھوں میں ہتھکڑی اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر تمہیں اٹھنے نہیں دیتا۔ تمہار ا بہترین بھائی وہ ہے جس کےمرنے کے بعد تمہارا جینا محال ہو، اور اس کے بغیر زندگی وبال ہوجائے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *