شہد کی مکھی کا عشق رسولﷺ

ایک روز حضور اکرم ﷺ غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستےمیں آرام فرمایا اور صحابہ کرام نے کھانا شروع کیا

اسی دوران شہد کی مکھیوں کے بھنبھنانے کی آوازیں آنے لگیں۔ اور یہ آوازیں صحابہ کرام نے بھی سماعت فرمائیں صحابہ کرام تاجدار مدینہ ﷺ سے درخواست کی یا رسول اللہ یہ آوازیں کس کی ہیں؟

حضور پاکﷺ نے فرما یا شہد کی مکھیاں عرض کر رہی ہیں یا رسول اللہ صحابہ کرام بغیر سالن کے کھانا تناول فرما رہے ہیں حالانکہ پاس ہی ایک پہاڑ ہے جہاں شہد کا چھتا ہے لیکن ہم اس کو یہاں لانے سے قاصر ہیں آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ ان کے ساتھ جاؤ چنانچہ حضرت علی شہد کی مکھیوں کےپیچھے روانہ ہوگئکچھ دیر بعد شہد لے کر آئے اور صحابہ کرام نے شہد کو استعمال کیا اسی دوران دوبارہ پھر شہد کی مکھیوں کے بھنبھنانے کی آوازیں سنائی دیں ۔صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ پھر ویسے ہی آوازیں آرہی ہیں تاجدار ِ مدینہ نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا ہے کہ یہ کڑوے پھول کیسے شہد بن جاتے ہیں،

شہد کی مکھیوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہماری ایک شہد کی مکھی امیر ہے ہم سب آپﷺ کی ذات پر مل کر درود بھیجتی ہیں۔ چنانچہ یہ کڑوے پھولوں کے رس شہد بن جاتے ہیں۔ سبحان اللہ یہ شہد کی مٹھاس اور شفاء کی وجہ۔اس کی طوالت/قطر اس کا (ڈیڈھ۱/۵) گنا بنتا ہے.اور اتنی محنت کے باوجود ایک مکھی اپنی پوری زندگی کے دوران ایک چمچ کا (12)حصہ شہد پیدا کرتی ہے. آدھا کلو شہد بنانے کے لیے مختلف مکھیوں کو(55) ہزار میل کا سفر طے کرنا پڑتا ہے. اور(20)لاکھ پھولوں کا رس ملا کر بڑی مشکل سے آدھا کلو شہد بنتا ہے. شہد کی مکھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی5 آنکھیں ہوتی ہیں اور دو معدے ہوتے ہیں.ایک معدے میں وہ اپنی نامل خوراک رکھتی ہے. اور دوسرے معدے میں جو پھولوں کا رس اکھٹا کر کے لاتی ہے اس کو سٹور کرتی ہے.

ایک مکھی جو عام طور پر جب اپنے چھتے سے اڑتی ہے تو وہ اپنی ایک فلائیٹ / ایک دورے کے دوران 70-100پھولوں کا رس چوس کر واپس لاتی ہے. اتنی محنت کے باوجود شہد کی مکھی سوتی نہیں ہے. وہ اپنی انرجی کو سیو کرتی ہے. اور اس انرجی کو پھر اگلے دن استعمال کرتی ہے.

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.